خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 392
خطبات مسرور 392 $2003 امریکہ میں ایک صاحب احمدی ہوئے جو بہت بڑے موسیقار تھے اور اپنے وقت میں اس تیزی کے ساتھ میوزک میں ترقی کر رہے تھے کہ بہت جلد انہوں نے امریکہ کی سطح پر شہرت حاصل کر لی اور ان کے متعلق ماہرین کا خیال تھا کہ یہ ایسے عظیم الشان میوزیشن بنیں گے کہ گویا ان کو یاد کیا جائے گا کہ یہ اپنے زمانے کے بہت بڑے میوزیشن تھے۔احمدی ہوئے تو نہ میوزک کی پرواہ کی۔نہ میوزک کے ذریعے آنے والی دولت کی طرف لالچ کی نظر سے دیکھا سب کچھ یک قلم منقطع کر دیا اور اب وہ درویشانہ زندگی گزارتے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ نماز تہجد ادا کرتے ہیں۔آنحضرت کا نام لیتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔(ماهنامه خالد - جنوری ۱۹۸۸ء) حضرت خلیفہ المسح الاول فرماتے ہیں اپنی خلافت سے پہلے کا واقعہ لکھتے ہیں کہ: "میں یہاں کس لئے آیا ہوں۔دیکھو بھیرہ میں میرا پختہ مکان ہے اور یہاں میں نے کچے مکان بنوائے اور ہر طرح کی آسائش مجھے یہاں سے زیادہ وہاں مل سکتی تھی مگر میں نے دیکھا کہ میں بیمار ہوں اور بہت بیمار ہوں محتاج ہوں اور بہت محتاج ہوں، لاچار ہوں اور بہت لاچار ہوں۔پس میں اپنے ان دکھوں کے دور کرنے کے لئے یہاں آیا ہوں۔اگر کوئی شخص قادیان اس لئے آتا ہے کہ وہ میرانمونہ دیکھے یا یہاں آ کر یا کچھ عرصہ رہ کر یہاں کے لوگوں کی شکایتیں کرے تو یہ اس کی نظر دھو کہ کھاتی ہے کہ وہ بیماروں کو تندرست خیال کر کے ان کا امتحان لیتا ہے۔یہاں کی دوستی اور تعلقات، یہاں کا آنا اور یہاں سے جانا اور یہاں کی بود و باش سب کچھ لا الہ الا اللہ کے ماتحت ہونی چاہئے۔ورنہ اگر روٹیوں اور چار پائیوں وغیرہ کے لئے آتے ہو تو بابا تم میں سے اکثر کے گھر میں ایسی روٹیاں وغیرہ موجود ہیں پھر یہاں آنے کی ضرورت کیا ہے؟۔تم اس اقرار کے قائل اسی وقت ہو سکتے ہو جب تمہارے سب کام خدا کے لئے ہوں“۔خطبه جمعه فرموده ۲۲ جنوری ١٩٠٤ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے بارہ میں کہ: اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا۔اور در حقیقت ان راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقویٰ اور اطاعت الہی کو انتہا