خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 391

$2003 391 خطبات مسرور خداوند تعالیٰ آپ ہماری ساری برادری اور تمام کوٹلہ والوں کو سمجھ عطا فرمائے کہ آپ سب صاحب اسلام کے پورے خادم بن جائیں اور ہم سب کا مرنا اور جینا محض اللہ ہی کے لئے ہو۔ہم خداوند تعالیٰ کے پورے فرمانبردار مسلم بن جائیں۔ہماری شرائط بیعت میں ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور اپنی مہربان گورنمنٹ کے شکر گزار ہوں، اس کی پوری اطاعت کریں۔یہی چیز مجھ کو یہاں رکھ رہی ہے کہ جوں جوں مجھ میں ایمان بڑھتا جاتا ہے اسی قدر دنیا بیچ معلوم ہوتی جاتی ہے اور دین مقدم ہوتا جاتا ہے۔خداوند تعالیٰ اور انسان کے احسان کے شکر کا احساس بھی بڑھتا جاتا ہے اسی طرح گورنمنٹ عالیہ کی فرمانبرداری اور شکر گزاری دل میں پوری طرح سے گھر کرتی جاتی ہے۔(اصحاب احمد جلد ۲ صفحه ۱۲۶ تا ۱۲۹) پھر حکیم فضل دین صاحب کا نمونہ ہمدردی اسلام کے بارہ میں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جبی فی اللہ حکیم فضل دین صاحب بھیروی۔حکیم صاحب اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کے دوستوں میں سے اور ان کے رنگ اخلاق سے رنگین اور بہت با اخلاص آدمی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ ان کو اللہ اور رسول سے سچی محبت ہے اور اسی وجہ سے وہ اس عاجز کو خادم دین دیکھ کر حبّ للہ کی شرط کو بجالا رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دین اسلام کی حقانیت کے پھیلانے میں اُسی عشق کا وافر حصہ ملا ہے جو تقسیم ازلی سے میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور دین صاحب کو دیا گیا ہے۔وہ اس سلسلہ کے دینی اخراجات کو بنظر غور دیکھ کر ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ چندہ کی صورت پر کوئی ان کو احسن انتظام ہو جائے“۔ازاله اوهام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۵۲۲ جب ۱۹۲۳ء میں کارزار شدھی گرم کیا گیا تو احمدی مربیان کا یہ حال تھا کہ وہ تیز چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کرتے۔بعض اوقات کھانا تو کیا پانی بھی نہیں مانتا تھا۔اکثر اوقات کچا پکا باسی کھانا کھاتے یا بھنے ہوئے چنے کھا لیتے اور پانی پی کر گزارہ کرتے۔بعض اوقات ستو ر کھے ہوئے ہوتے تھے۔اور انہیں پر گزارہ کرتے۔صوفی عبد القدیر صاحب کہتے ہیں کہ سولہ میل روزانہ کی اوسط سے چالیس دیہاتوں کے مابین سفر کرتے رہے۔تاریخ احمدیت جلد نمبر ٥ ص ٣٤٣)