خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 379

$2003 379 خطبات مسرور کس قدر نفرت تھی اس کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میری شادی کا موقعہ تھا ( چوہدری بشیر صاحب کی )۔نکاح کے بعد مجھے زنانہ میں بلایا گیا۔میں نے دیکھا کہ جیسے دیہات میں رواج ہے دونشستوں کا ایک دوسرے کے مقابل انتظام کیا گیا ہے اور مجھ سے توقع کی جارہی ہے کہ میں ایک نشست پر بیٹھ جاؤں اور دوسری پر دلہن کو بٹھا دیا جائے۔اور بعض رسوم ادا کی جائیں جنہیں پنجابی میں بیر و گھوڑی کھیلنا کہتے ہیں۔میں دل میں گھبرایا۔لیکن پھر میں نے خیال کیا کہ اس وقت عورتوں کے ساتھ بحث اور ضد مناسب نہیں اور میں اس نشست پر جو میرے لئے تجویز کی گئی تھی بیٹھ گیا اور ان اشیاء کی طرف جو اس رسم کے لئے مہیا کی گئی تھیں ہاتھ بڑھایا۔اتنے میں ممانی صاحبہ ( یعنی چوہدری صاحب کی والدہ نے میرا ہاتھ کلائی سے مضبوط پکڑ کر پیچھے ہٹا دیا اور کہا: نہ بیٹا یہ شرک کی باتیں ہیں۔اس سے مجھے بھی حوصلہ ہو گیا، میں نے ان اشیاء کو اپنے ہاتھ کے ساتھ بکھیر دیا اور کھڑے ہو کر کہہ دیا کہ میں ان رسوم میں شامل نہیں ہوں گا اور اس طرح میری مخلصی ہوئی۔آج بھی عورتوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔صرف اپنے علاقہ کی یا ملک کی رسموں کے پیچھے نہ چل پڑیں۔بلکہ جہاں بھی ایسی رسمیں دیکھیں جن سے ہلکا سا بھی شائبہ شرک کا ہوتا ہوان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ کرے تمام احمدی خواتین اسی جذبہ کے ساتھ اپنی اور اپنی نسلوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔ہمارے ملکوں میں، پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں مسلمانوں میں بھی یہ رواج ہے کہ لڑکیوں کو پوری جائداد نہیں دیتے۔پوری کیا، دیتے ہی نہیں۔خاص طور پر دیہاتی لوگوں میں، زمینداروں میں۔اس کا ایک نمونہ ہے، چوہدری نصر اللہ خان صاحب کا۔چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری ہمشیرہ صاحبہ مرحومہ کو اس زمانہ کے رواج کے مطابق والد صاحب نے ان کی شادی کے موقع پر بہت سارا جہیز دیا اور پھر آپ نے یہ وصیت بھی کر دی کہ آپ کا ورثہ شریعت محمدی کے مطابق تقسیم بھی ہوگا، لڑکوں میں بھی اور لڑکیوں میں بھی۔چنانچہ اس کے مطابق ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی کو بھی شریعت کے مطابق حصہ دیا گیا۔ایک واقعہ ہے: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۲ء میں جالندھر تشریف لے گئے تھے۔حضور کی رہائش بالائی منزل پر تھی۔کسی خادمہ نے گھر میں حقہ رکھا اور چلی گئی اسی دوران حقہ گر پڑا اور بعض چیزیں آگ سے جل گئیں۔حضور نے اس بات پر حقہ پینے والوں سے ناراضگی اور حقہ