خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 371

خطبات مسرور 371 $2003 یہ ضروری نہیں کہ مسجد مرقع اور پکی عمارت کی ہو۔بلکہ صرف زمین روک لینی چاہئے اور وہاں مسجد کی حد بندی کر دینی چاہئے اور بانس وغیرہ کا کوئی چھپر وغیرہ ڈال دو کہ بارش وغیرہ سے آرام ہو۔خدا تعالیٰ تکلفات کو پسند نہیں کرتا۔آنحضرت ﷺ کی مسجد چند کھجوروں کی شاخوں کی تھی اور اسی طرح چلی آئی۔پھر حضرت عثمان نے اس لئے کہ ان کو عمارت کا شوق تھا ، اپنے زمانہ میں اسے پختہ بنوایا۔تو یہ بھی وہم نہیں ہونا چاہئے کہ صرف کچی مسجد ہی، چھپر ہی ہوں۔بلکہ پختہ بھی بنوائی گئیں۔اور آنحضرت ﷺ نے جیسا کہ میں نے پہلے حدیث سے ذکر کیا تھا حضرت عثمان نے اس کی وضاحت بھی کی تھی۔فرمایا ”حضرت عثمانؓ نے اس لئے کہ ان کو عمارت کا شوق تھا، اپنے زمانہ میں اسے پختہ بنوایا۔مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ حضرت سلیمان اور عثمان کا قافیہ خوب ملتا ہے۔شاید اسی مناسبت سے اُن کو ان باتوں کا شوق تھا۔غرضیکہ جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہئے جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ کرے۔اور جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ سب مل کر اسی مسجد میں نماز باجماعت ادا کیا کریں۔جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے۔پراگندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہئے اور ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہئے جو کہ پھوٹ کا باعث ہوتی ہیں۔البدر ٢٤ اگست ١٩٠٤ء، ملفوظات جلد چهارم - صفحه ۹۳) پھر آپ فرماتے ہیں : مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔رسول کریم علیہ کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت ﷺ کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔(البدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ ، ملفوظات جلد چهارم صفحه ٤٩١