خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 370
370 $2003 خطبات مسرور مجھے بخش دے " وَافْتَحْ لِيْ اَبْوَابِ رَحْمَتِكَ “ اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو یہ دعا کرے ” بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ “ الله کے نام کے ساتھ اور رسول پر سلام ہو "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبی“ اے اللہ میرے گناہ بخش دے وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ“ اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔(مسند ا احمد بن حنبل ایک حدیث میں آداب مساجد کے بارہ میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کچھ باتیں ہیں جو مسجد میں کرنی جائز نہیں۔(۱) مساجد کو گزرنے کا راستہ نہ بنایا جائے۔(شارٹ کٹ میں یہ نہیں کہ ایک دروازے سے آئے دوسرے سے نکل گئے )۔(۲) مسجد میں اسلحہ کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔(۳) مسجد میں کمان نہ پکڑی جائے اور نہ مسجد میں تیر برسائے جائیں۔(۴) کچا گوشت لے کر مسجد سے نہ گزرا جائے۔(اس سے گند بھی پھیلتا ہے، یو بھی پھیلتی ہے )۔(۵) مسجد میں نہ تو کسی پر حد جاری کی جائے اور نہ مسجد میں کسی سے قصاص لیا جائے۔اسی طرح مسجد کو بازار نہ بنایا جائے ( یعنی مسجد میں خرید و فروخت نہ کی جائیں)۔(سنن ابن ماجه، کتاب المساجد، باب مايكره في المساجد) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حق اللہ میں بھی امراء کو دقت پیش آتی ہے اور تکبر اور خود پسندی ان کو محروم کر دیتی ہے۔مثلاً نماز کے وقت ایک غریب کے پاس کھڑا ہونا برا معلوم ہوتا ہے۔اُن کو اپنے پاس بٹھا نہیں سکتے اور اس طرح پر وہ حق اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ مساجد تو دراصل بیت المساکین ہوتی ہیں۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٣٦٨۔جدید ایڈیشن) پھر آپ نے فرمایا: اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہوگئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر، جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی چاہئے ، پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔محض اللہ اُسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شتر کو ہر گز دخل نہ ہو، تب خدا برکت دے گا۔