خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 366
366 $2003 خطبات مسرور نے فرمایا : جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرا کرو تو وہاں کچھ کھا پی لیا کرو۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ ! یہ جنت کے باغات کیا ہیں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” مساجد جنت کے باغات ہیں، میں نے عرض کی۔یارسول اللہ ! ان میں کھانے پینے سے کیا مراد ہے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ “ پڑھنا۔(ترمذی، کتاب الدعوات باب حدیث فی اسماء الله الحسنى مع ذكرها تماما) ذکر الہی کرنا سے مراد یہ ہے کہ جنت کے باغ ہیں مسجد اور ذکر الہی کرنا وہاں کی خوراک۔حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہروں کی پسندیدہ جگہیں ان کی مساجد اور شہروں کی ناپسندیدہ جگہیں ان کی مارکیٹیں ہیں۔(مسلم كتاب المساجد باب فضل الجلوس في مصلاه بعد الصبح و فضل المساجد) لیکن آج کل آپ دیکھیں کہ جو نا پسندیدہ جگہیں ہیں ان میں لوگ زیادہ بیٹھتے ہیں اور مساجد جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہیں ہیں ان میں کم بیٹھا جاتا ہے، اس طرف توجہ کم ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو اس بات کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہئے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں۔پھر مسجد میں تلاوت اور درس و تدریس کے بارہ میں حدیث ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی قوم مسجد میں کتاب اللہ کی تلاوت اور با ہم درس و تدریس کیلئے بیٹھی ہو تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔رحمت باری ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے جلو میں لے لیتے ہیں۔(سنن الترمذى، كتاب القراءات، باب ماجاء ان القران انزل على سبعة احرف حضرت برادہ الاسلمی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اندھیروں کے دوران مسجدوں کی طرف بکثرت چل کر جانے والوں کو قیامت کے روز نور تام عطا ہونے کی بشارت دے رو۔تو اس سے ایک یہ بھی مراد ہے کہ یہ دنیا داری کا زمانہ ہے، اس میں مسجدیں آباد کرنے