خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 33

$2003 33 خطبات اليس الله بکاف عبده اسی ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ : ” جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کہ مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہیں کی زندگی سے وابستہ تھے۔۔۔اس لئے یہ خیال گزرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہوگا۔اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا تب اسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا " أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ» یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔اس الہام الہی کے ساتھ دل ایسا قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔۔ہمیں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔تب میں نے ایک ہندو کھتری ملا وامل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اس کو سنایا اور اس کو امرتسر بھیجا کہ تاحکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہبر بنوا کر لے آوے اور میں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپیہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی جواب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے اُس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا۔اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا۔اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے دیران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا اور پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکر یہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے