خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 365

365 $2003 خطبات مسرور اور تقویٰ بھی دل میں پیدا ہو گا۔اس ضمن میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ مسجدوں میں ذاتی یا دنیا داری کی باتیں کرنا بالکل منع ہے اور صرف ذکر الہی کے لئے یہ مسجد میں بنائی گئی ہیں اور اس طرف توجہ ہمیں دینی چاہئے۔حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مسجد میں مشاعرہ کے رنگ میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔اور (اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ ) اس میں بیٹھ کر خرید و فروخت کی جائے اور مسجد میں جمعہ کے دن نماز سے پہلے لوگ حلقے بنا کر بیٹھے باتیں کریں۔(ترمذى كتاب الصلواة ) پھر ایک حدیث ہے۔حضرت وائلہ بن استخﷺ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی مساجد سے دور رکھو اپنے چھوٹے بچوں کو اور اپنے مجانین (دیوانوں) کو اور اپنے شراء (خرید ) اور اپنی بیع (فروخت) کو۔اور اپنے جھگڑوں کو اور اپنی آواز کو بلند کرنے کو۔اور اپنی حدود کی تنفیذ کو اور اپنی تلواریں کھینچنے کو۔اور مساجد کے دروازوں پر (یعنی ان کے قریب) طہارت خانے بناؤ نیز جمعوں ( یا اجتماع کے موقع ) پر ان میں خوشبو دار دھونی دو۔(سنن ابن ماجه تو اتنے چھوٹے بچوں کو مسجد میں نہیں لانا چاہئے جس کی بالکل ہوش کی عمر نہ ہو اور ان کے رونے سے دوسرے نمازیوں کی عبادت میں خلل واقع ہوتا ہو۔تو اللہ تعالیٰ کا یہ شکر ہے کہ جماعت احمد یہ ایک پرامن جماعت ہے اور ہمارے ہاں یہ تصور بھی نہیں ہوتا کہ تلواریں کھینچی جائیں۔مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہے۔جیل میں ایک بڑا داڑھی والا مولوی ٹائپ آدمی تھا۔میں نے اس سے انٹرویو لینا شروع کیا کہ تم کس طرح یہاں آئے۔تو وہ قتل کے کیس میں آیا ہوا تھا۔میں نے پوچھا یہ قتل ہوا کیسے۔(کہنے لگا ) کہ رمضان کے مہینے میں اعتکاف بیٹھا ہوا تھا کہ مسجد میں ایک آدمی آیا میرے پاس بندوق تھی میں نے فائر کیا اور ماردیا۔غلطی سے فائز ہو گیا۔میں نے کہا کہ بندوق تم نے وہاں رکھی کیوں تھی؟ غلطی سے فائر ہو گیا؟۔تو یہ دشمنیاں مسجدوں میں بھی چلتی ہیں، اعتکاف بیٹھے ہوئے بھی قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں۔پھر حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله الله