خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 347

$2003 347 خطبات مسرور Pagan لوگ ہیں ان کے اندر بہت سی گندی رسمیں اور عادتیں پائی جاتی ہیں مگر احمدیت میں داخل ہوتے ہی وہ ان رسموں پر اس طرح لکیر پھیر دیتے ہیں اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں جیسے یہ برائیاں کبھی اُن میں تھیں ہی نہیں۔ایسی رپورٹیں بھی آئیں کہ شراب کے رسیا ایک دم شراب سے نفرت کرنے لگ گئے اور اس کا دوسروں پر بھی بہت گہرا اثر ہوا۔اور جب وہ اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں تو مولوی کہتے ہیں کہ احمدیت نے ان پر جادو کر دیا ہے اور اس وجہ سے انہوں نے شراب چھوڑ دی ہے۔پھر ایک واقعہ مجھے یاد آیا۔ایک مربی صاحب نے مجھے بتایا۔گھانا میں ہی ایک شخص احمدی ہوا جس میں تمام قسم کی برائیاں پائی جاتی تھیں۔شراب کی بھی ، زنا کی بھی ، ہر قسم کی۔وہاں رواج یہ ہے کہ گھروں میں لوگ غربت کی وجہ سے یار ہائش کی کمی کی وجہ سے بڑے بڑے مکان ہوتے ہیں اس میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیتے ہیں۔اسی طرح رہنے کا رواج ہے۔تو یہ شخص اسی طرح کے ماحول میں رہتا تھا۔عورتوں سے دوستی تھی لیکن جب احمدیت قبول کی تو سب کو کہہ دیا کہ کسی غلط کام کے لئے کوئی میرے پاس نہ آئے۔لیکن ایک عورت اس کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں تھی۔اس نے اس پر یہ طریقہ اختیار کیا کہ جب وہ اسے دور سے دیکھتا تھا تو کنڈی لگا کر فور نفل پڑھنا شروع کر دیتایا قرآن شریف کی تلاوت کرنی شروع کر دیتا تھا ، اس طرح اس نے اپنے آپ کو محفوظ کیا۔تو یہ انقلابات ہیں جو احمدیت لے کر آئی ہے۔پھر ہمارے ایک مبلغ ہیں مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر ، وہ بیان کرتے ہیں کہ خاکسار جماعت احمدیہ غانا کے افراد کے ساتھ ایک عید کی نماز کے بعد پیراماؤنٹ چیف سے ملنے گیا۔وہ اپنے سب سرکردہ افراد کے ساتھ ہمارے انتظار میں تھے۔جب ہم اندر داخل ہوئے تو احمدی دوستوں نے چیفوں اور ان کے ساتھیوں کے سامنے بڑے جوش سے اس طرح گانا شروع کیا کہ ایک بوڑھا احمدی جو چیف کے سامنے تھا چھڑی ہوا میں لہرا لہرا کر گا رہا تھا اور باقی دوست جو تین صد کے قریب تھے اس کے پیچھے وہی فقرات دہرا رہے تھے۔میں نے ترجمان سے پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں تو اس نے مجھے بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اسلام کی برکات کا ذکر کر رہے ہیں۔یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بت پرست اور مشرک تھے۔ہمیں حلال و حرام اور نیکی بدی کا کوئی علم نہیں تھا۔ہماری زندگی بالکل