خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 310
$2003 310 خطبات مسرور وَيَتِيما و اسيرا﴾ (سورة الدهر : 9)۔اور وہ کھانے کو،اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے ، مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کو اپنی ضروریات ہوتی ہیں وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ضرورتمندوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں، آپ بھوکے رہتے ہیں اور ان کو کھلاتے ہیں۔تھر دلی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ جو دے رہے ہیں وہ اس کو جس کو دیا جا رہا ہے اس کی ضرورت بھی پوری نہ کر سکے، اس کی بھوک بھی نہ مٹا سکے۔بلکہ جس حد تک ممکن ہو مدد کرتے ہیں اور یہ سب کچھ نیکی کمانے کے لئے کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں۔کسی قسم کا احسان جتانے کے لئے نہیں کرتے۔اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ چیز دیتے ہیں جس کی ان کو ضرورت ہے یعنی اس دینے والے کو جس کی ضرورت ہے جس کو وہ خود اپنے لئے پسند کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ کی خاطر وہی دوجس کو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔یہ نہیں کہ جس طرح بعض لوگ اپنے کسی ضرورتمند بھائی کی مددکرتے ہیں تو احسان جتا کے کر رہے ہوتے ہیں۔بلکہ بعض تو ایسی عجیب فطرت کے ہیں کہ تحفے بھی اگر دیتے ہیں تو اپنی استعمال شدہ چیزوں میں سے دیتے ہیں یا پہنے ہوئے کپڑوں کے دیتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو اپنے بھائیوں، بہنوں کی عزت کا خیال رکھنا چاہئے۔بہتر ہے کہ اگر توفیق نہیں ہے تو تحفہ نہ دیں یا یہ بتا کر دیں کہ یہ میری استعمال شدہ چیز ہے اگر پسند کرو تو دوں۔پھر بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم غریب بچیوں کی شادیوں کے لئے اچھے کپڑے دینا چاہتے ہیں جو ہم نے ایک آدھ دن پہنے ہوئے ہیں۔اور پھر چھوٹے ہو گئے یا کسی وجہ سے استعمال نہیں کر سکے۔تو اس کے بارہ میں واضح ہو کہ چاہے ایسی چیزیں ذیلی تنظیموں، لجنہ وغیرہ کے ذریعہ یا خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہی دی جارہی ہوں یا انفردی طور پر دی جارہی ہوں تو ان ذیلی تنظیموں کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر ایسے لوگ چیزیں دیں تو غریبوں کی عزت کا خیال رکھیں اور اس طرح ، اس شکل میں دیں کہ اگر وہ چیز دینے کے قابل ہے تو دی جائے۔یہ نہیں کہ ایسی اترن جو بالکل ہی نا قابل استعمال ہو وہ دی جائے۔داغ لگے ہوں، پسینے کی بو آرہی ہو کپڑوں میں سے۔تو غریب کی بھی ایک عزت ہے اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔اور ایسے کپڑے اگر دئے جائیں تو صاف کروا کر ، دھلا کر ، ٹھیک کروا کر ، پھر دئے جائیں۔اور جیسا کہ میں