خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 308
خطبات مس تشھد وتعوذ کے بعد فرمایا $2003 308 اسلام کی تعلیم ایک ایسی خوبصورت تعلیم ہے جس نے انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں چھوڑا جس سے یہ احساس ہو کہ اس تعلیم میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے ان احسانوں کا تقاضا ہے کہ اس کے پیارے رسول ﷺ پر اتری ہوئی اس تعلیم کو اپنا کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں ،اپنے او پر لاگو کریں۔اور ہم پر تو اور بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام اور اس زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور شامل ہونے کا دعویٰ ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کرنے اور حقوق اللہ ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے ہمیں مختلف رشتوں اور تعلقوں کے حقوق کی ادائیگی کا بھی حکم فرمایا ہے اور اسی اہمیت کی وجہ سے ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط بیعت کی نویں شرط میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا ذکر فرمایا ہے۔تو یہ جو شرائط بیعت کا سلسلہ ہے اسی سلسلے کی آج نویں شرط کے بارہ میں کچھ کہوں گا۔نویں شرط یہ ہے یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: ﴿ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَمَى وَالْمَسْكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ﴾ (النساء : ۳۷)۔اس کا ترجمہ یہ ہے: اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو