خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 27

خطبات مسرور 27 $2003 نزدیک صرف ان کی مرضی کی تفسیر اور ان کی مرضی کے احکامات ہی احکامات کا درجہ رکھتے ہیں۔حضور رحمہ اللہ کی وفات پر پاکستان میں بعض اخبارات نے جس گندہ دینی اور ضلالت کی مثال قائم کی ہے اس پر سوائے انا للہ پڑھنے کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہر حال پیشگوئیوں کے مطابق یہ ہونا تھا اور ہمارے ایمانوں کو مزید تقویت ملتی ہے کہ خبیر خدا نے ان حالات کے بارے میں پہلے ہی آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر دے دی تھی۔اور آج ہم اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اس زمانہ میں مسلمانوں کے تغیر کے بارہ میں جو پیش خبریاں فرمائی تھیں اس میں سے ایک کا مختصر ذکر حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ میں یہاں بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک تغیر مسلمانوں میں آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا کہ لوگ زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے۔یہ بھی حضرت علی سے البز ار نے نقل کیا ہے۔چنانچہ اس وقت جب کہ مسلمانوں پر چاروں طرف سے آفات نازل ہو رہی ہیں اور زکوۃ کے علاوہ بھی جس قدر صدقات و خیرات وہ دیں کم ہیں۔اکثر مسلمان زکوۃ کی ادائیگی سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے جی چراتے ہیں اور جہاں اسلامی احکام کے ماتحت زکوۃ لی جاتی ہے وہاں تو بادل ناخواستہ کچھ ادا بھی کر دیتے ہیں مگر جہاں یہ انتظام نہیں وہاں سوائے شاذ و نادر کے بہت لوگ زکوۃ نہیں دیتے اور جو اقوام زکوۃ دیتی بھی ہیں وہ اسے نمود کا ذریعہ بنالیتی ہیں اور اس رنگ میں دیتی ہیں کہ دوسرا اسے زکوۃ نہیں خیال کرتا بلکہ قومی کاموں کے لئے چندہ سمجھتا ہے۔پاکستان میں جب سے اسلامی قوانین کا زیادہ نفاذ شروع ہوا ہے زکوۃ کو بھی لازمی قرار دیا گیا تو یہ حالت ہے کہ احمدی غیر مسلم ، لیکن بعض لوگ اپنی زکوۃ بچانے کے لئے بنکوں میں اپنے آپ کو احمدی ظاہر کر دیتے ہیں۔یار میں جمع ہیں سال ختم ہونے سے دو دن پہلے رقم نکلوالی تا کہ اس پر ز کوۃ نہ ادا کرنی پڑے اور جو کرتے ہیں وہ بھی حضرت مصلح موعود نے جس طرح فرمایا نام و نمود کی خاطر۔پھر کیونکہ برکت نہیں ہے، نظام نہیں ہے اخباروں میں زکوۃ کی تقسیم کی خبریں آتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے پتہ نہیں کیا شور پڑ گیا ہے اور بعض دفعہ یہ زکوۃ کمیٹیاں جو قائم ہیں اخباروں کی خبروں کی مطابق ہی آپس میں دست و گریبان ہو رہی ہوتی ہیں۔ضمنا ایک یاد آ گیا جب میں گھانا میں تھا تو وہاں بعض غیر احمدی شرفاء اپنی زکوۃ ہمارے پاس لے آتے تھے کہ ہم جماعت احمدیہ کو یہ دیتے