خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 305 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 305

خطبات مسرور 305 $2003 جمعہ کا مضمون بہت گہرا اور وسیع ہے۔جمعہ ایک زمانے کا نام ہے اور اس زمانے میں جمعیت کے معنے داخل ہوتے ہیں مختلف چیزوں کا آپس میں ملا دینا۔پس جب اس پہلو سے اس حدیث کا مطالعہ کریں تو بہت وسیع مضمون ہے جو اس میں بیان ہوا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس دن نفخ صور ہو گا اور اسی روز غشی ہوگی۔اگر قیامت کا دن مراد ہو تو وہاں جمعہ کے دن کی کیا بحث ہے وہاں تو ازل اور ابد ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔وہاں یہ بحث ہی نہیں ہوتی کہ دن کون سا ہے۔قیامت کا وقت تو ایک عرصے کا نام ہے اور یہ جو دن ہم گنتے ہیں ان دنوں کی بحث نہیں ہے۔اس میں طویل زمانے کا نام ہے اور اس کو جمعہ کہنا کن معنوں میں درست ہے صرف ان معنوں میں کہ اس دن تمام اگلے اور پچھلے اکٹھے کر دئے جائیں گے اور وہ ایک دن نہیں ہو گا کہ سورج چڑھا، دن ہوا اور سورج غروب ہوا تو دن غروب ہوا۔بلکہ ایک زمانہ طلوع ہوگا اور اس سارے زمانے کا نام جمعہ ہے۔۔۔۔۔دوسری بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ جب اس دنیا پر اس کا اطلاق کر کے دیکھیں تو ایک اور مضمون ابھرتا ہے جس کا سورہ جمعہ میں ذکر موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ اسی روز نفخ صور ہو گا یعنی تمام بنی نوع انسان کومحمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دین کی طرف بلایا جائے گا اور یہ نفخ صور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے ہے اور اس کے متعلق بکثرت شواہد ملتے ہیں احادیث میں بھی اور گزشتہ اولیاء کے حوالوں سے بھی کہ یہ وعدہ کہ تمام دنیا کے ادیان پر محمد رسول اللہ ﷺ کا دین غالب آئے گا یہ مسیح موعود کے زمانے میں پورا ہونا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کا دور ہے جس کے متعلق فرمایا ہے اسی روز غشی ہوگی یعنی وہ اتنا خطرناک دور ہوگا کہ پہلے لوگ مدہوش کر دئے جائیں گے، مارا مار پھریں گے، کچھ سمجھ نہیں آئے گی کہ کیا ہو گیا ہے دنیا کو۔پھر وہ دین اسلام کی طرف راغب کئے جائیں گے۔اور اس کے بعد فرمایا: پس اس روز تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔پس جماعت کے لئے دیکھو کتنی بڑی خوشخبری ہے اس میں کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہماری تمام برکتیں درود سے وابستہ ہو چکی ہیں۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں کثرت سے درود بھیجنے کے نتیجے میں ہم ان عالمی مصیبتوں سے