خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 304
$2003 304 خطبات مسرور تعالیٰ نے اس قدر نوازا کہ آپ کو الہا ما فرمایا: تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے۔زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالی عرش سے تیری تعریف کرتا ہے“۔( تذکرہ صفحہ ۱۶۲۔مطبوعہ ۱۹۶۹ء) پھر الہام ہوا ایک لمبا عربی الہام ہے، کچھ حصے کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔کہ خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں۔مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کر لے اگر چہ منکر کراہت کریں۔ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرلے گا تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا جیسا کہ تم نے سمجھا“۔الله (تذکره صفحه ٣٥٥ - مطبوعه ١٩٦٩ ء) تو یہ ہیں برکات اور فیض جو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے سے حاصل ہوتے ہیں۔پس ہر احمدی کو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے پر بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔یہی وسیلہ ہے جس سے اب ہمارے ذاتی فیض بھی اور جماعتی فیض اور برکات اور ترقیات وابستہ ہیں۔آج جمعہ کا دن بھی ہے اور جمعہ کے دن آنحضرت اللہ نے اپنے پر درود بھیجنے کی مومنوں کو خاص طور پر تاکید فرمائی ہے جیسا کہ اس حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تمہارے بہترین ایام میں سے ایک جمعہ کا دن ہے۔اسی روز آدم پیدا کئے گئے، اسی روز انہیں وفات دی گئی۔اسی دن نفخ صو ر ہوگا اور اسی روز بخشی ہوگی۔پس اسی روز تم مجھ سے کثرت سے درود بھیجا کرو۔تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جائے گا۔راوی کہتے ہیں کہ اس پر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ جب آپ کا وجود بوسیدہ ہو چکا ہوگا یعنی کہ جسم مٹی بن گیا ہوگا اس وقت ہمارا درود آپ کو کیسے پہنچایا جائے گا۔فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے وجودوں کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلواة باب الجمعة پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے بھی اس کا خاص تعلق ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ جماعتی ترقیات اسی سے وابستہ ہیں۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کی بڑی اچھی تشریح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: