خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 293

$2003 293 خطبات مسرور ہمارے آقا محمد مصطفی مے نے ہمیں یہ راستہ دکھا دیا کہ مجھ پر درود بھیجو، تمہارا مجھے پر درود بھیجنا خود تمہاری پاکیزگی کا باعث بنے گا۔لیکن کیا صرف خالی درود پڑھنے سے ہی تمام مراحل طے ہو جائیں گے۔کئی تسبیح پھیرنے والے آپ کو ملیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ذکر الہی کر رہے ہیں اور اتنی تیزی سے تسبیح چل رہی ہوتی ہے کہ اس میں درود پڑھا ہی نہیں جاسکتا، بلکہ کوئی ذکر بھی نہیں کیا جاسکتا۔لیکن ان کی حالت دیکھ کر دل بے چین ہو جاتا ہے کہ یہ کس طرح درود پڑھ رہے ہیں۔تو یہ کس قسم کے لوگ ہیں جو اللہ اور رسول کا نام لے رہے ہیں۔اور آدمی کو بعض دفعہ خیال بھی آتا ہے کہ یہ ان کے ظاہری اعمال ہیں اور یہ ان کی حالت ہے جو نظر آرہی ہے۔تسبیح پھیر رہے ہیں۔تو یہ تضاد کیوں ہے۔تو اس مسئلے کو اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرح حل فرمایا ہے اور ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اس زمانہ کے امام کو پہچانے کی توفیق ملی۔الله آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی محبت کے ازدیاد اور تجدید کے لئے ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا تا کہ اس دعا کی قبولیت کے لئے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے۔درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو۔مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ اللہ کے حسن اور احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے“۔آپ کی کامیابیاں کیا ہیں۔یہی کہ اسلام کو ساری دنیا میں غلبہ حاصل ہو اس کا نتیجہ یہ ہو گا قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں اول: إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي۔دوم : يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔اور سوم : موهبت الهی (رساله ریویو اردو جلد ۳ نمبر 1 صفحه ١٤ - ١٥) تو پہلی دو تو یہی ہیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت بھی آنحضرت ﷺ کی پیروی میں ملے گی۔اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ بھی آپ پر درود شریف بھیجیں۔تو جب تک درد کے ساتھ ، جوش کے ساتھ آپ کے احسانوں کو سامنے رکھتے ہوئے درود شریف نہیں پڑھا جائے گا اور دل میں وہ جوش نہیں پیدا ہوگا جس سے آپ پر درود بھیجنے کا حق ادا ہو تو اس وقت تک یہ درود صرف زبانی درود ہی کہلائے گا اور آپ کے دل سے نکلی ہوئی آواز نہیں