خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 281

281 $2003 خطبات مسرور ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب مساکین سے بہت محبت کرتے تھے۔ان کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے۔وہ ان سے باتیں کرتے اور مساکین ان سے باتیں کرتے۔چنانچہ رسول اللہ اللہ حضرت جعفر کو ابوالمساکین کی کنیت سے پکارا کرتے تھے۔(ابن ماجه كتاب الزهد باب مجالسة الفقراء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو۔اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو نسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے در گزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو۔( الحكم ۱۷ جولائی ۱۹۰۳، ملفوظات جلد۔سوم صفحه ۳۷۰ پھر آپ فرماتے ہیں: ”اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے۔عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔“ (رپورٹ) جلسه سالانه ۱۸۹۷ ء صفحه ٤٩) آپ فرماتے ہیں: ” تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔اور بد بخت ہے وہ جوضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲-۱۳) پھر آٹھویں شرط یہ ہے یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے