خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 272
$2003 272 خطبات مسرور لوگوں نے اپنا رویہ باہر ایسا رکھا ہوتا ہے، بڑا اچھا رویہ ہوتا ہے ان کا اور لوگ باہر سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان جیسا شریف انسان ہی کوئی نہیں ہے۔اور باہر کی گواہی ان کے حق میں ہوتی ہے۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھر کے اندر اور باہر ایک جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کا تو ظاہر ہو جاتا ہے سب کچھ۔تو ایسے بدخلق اور متکبر لوگوں کے بچے بھی ، خاص طور پر لڑ کے جب جوان ہوتے ہیں تو اس ظلم کے رد عمل کے طور پر جو انہوں نے ان بچوں کی ماں یا بہن یا ان سے خود کیا ہوتا ہے، ایسے بچے پھر باپوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور پھر ایک وقت میں جا کر جب باپ اپنی کمزوری کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس سے خاص طور پر بدلے لیتے ہیں۔تو اس طرح ایسے متکبرانہ ذہن کے مالکوں کی اپنے دائرہ اختیار میں مثالیں ملتی رہتی ہیں۔مختلف دائرے ہیں معاشرے کے۔ایک گھر کا دائرہ اور اس سے باہر ماحول کا دائرہ۔اپنے اپنے دائرے میں اگر جائزہ لیں تو تکبیر کی یہ مثالیں آپ کو ملتی چلی جائیں گی۔پھر اس کی انتہا اس دائرے کی اس صورت میں نظر آتی ہے جہاں بعض قو میں اور ملک اور حکومتیں اپنے تکبر کی وجہ سے ہر ایک کو اپنے سے پیچ سمجھ رہی ہوتی ہیں۔اور غریب قوموں کو غریب ملکوں کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھا ہوتا ہے۔اور آج دنیا میں فساد کی بہت بڑی وجہ یہی ہے۔اگر یہ تکبر ختم ہو جائے تو دنیا سے فساد بھی مٹ جائے۔لیکن ان متکبر قوموں کو بھی حکومتوں کو بھی پتہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تکبر کرنے والوں کے غرور اور تکبر کو توڑتا ہے تو ان کا پھر کچھ بھی پتہ نہیں لگتا کہ وہ کہاں گئے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: ﴿فَلَا تُصَعِرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ﴾ (لقمان: ۱۹ )۔اس کا ترجمہ یہ ہے اور ( نخوت سے ) انسانوں کے لئے اپنے گال نہ پھلا اور زمین میں یونہی اکڑتے ہوئے نہ پھر۔اللہ کسی تکبر کرنے والے (اور ) فخر و مباہات کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔جیسا کہ اس آیت سے بھی ظاہر ہے اللہ تعالیٰ ہمیں فرما رہا ہے کہ یونہی تکبر کرتے ہوئے نہ پھرو۔اپنے گال پھلا کر، ایک خاص انداز ہوتا ہے تکبر کرنے والوں کا اور گردن اکثرا کر پھر نا اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے اکثر دکھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے سے اوپر والے کے سامنے بچھتے چلے جاتے ہیں۔تو ایسے لوگوں میں