خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 22
22 $2003 خطبات مسرور خدا کے ٹور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں۔مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرلے اگر چہ منکر کراہت کریں۔ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرلے گا۔تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔“ (تذکره - صفحه ٤٨ - مطبوعه ١٩٦٩ء) آخر پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ خطبہ میں میں نے ایک دوست کے خط کا ذکر کیا تھا اس پر بعض دوستوں نے احباب نے بہت زیادہ رد عمل کا اظہار کیا ہے۔میں اس دوست کو ذاتی طور پہ جانتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلص خاندان کے مخلص فرد ہیں لیکن اپنی سمجھ کے مطابق جو انہوں نے سمجھا اس کا اظہار کیا۔لیکن اس وجہ سے مجھے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ جماعت کے سامنے رکھ دوں کیونکہ مجھے خطرہ تھا کہ ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر یہ ذکر مجلسی رنگ نہ اختیار کر جائے اور کہیں کوئی نادان ٹھو کر نہ کھائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت بہت پھیل چکی ہے۔الْحَمْدُ لِلہ اور اس زمانہ میں اس نے ایم ٹی اے جیسی نعمت بھی ہمیں عطا فرمائی ہے، فوری رابطے کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے ایسی باتوں کا ذکر کرنا میری مجبوری ہے۔خطوط کا ایک سلسلہ ہے جس میں حوصلہ دلایا جاتا ہے۔جَزَاكَ الله لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی ذات کے لئے مجھے مکمل حوصلہ ہے اور کوئی ایسی بات نہیں۔لیکن جماعت کی خاطر بعض باتیں کہنی پڑتی ہیں۔کہیں یہ ذکر آجاتا ہے جذبات میں کہ یہ جماعت کے سامنے کہنے کی چنداں ضرورت نہ تھی ہختی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔تو اس بارہ میں نہایت پیار سے میں عرض کر دیتا ہوں کہ مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت سے بہت پیار ہے اور بختی یا نرمی کے مواقع اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی طرح جانتا ہوں اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کی دی ہوئی توفیق سے فیصلے کرنے کی کوشش کروں گا۔اللہ تعالیٰ اپنی رضا کے مطابق کام کرنے کی مجھے توفیق دے۔لیکن پھر یہ بڑے پیار سے عرض کر دوں کہ جو جماعت کے لئے بہتر سمجھو ں گا ضرور کہوں گا اور یہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کی ضرورت تھی یا نہیں تھی۔جب کہہ دیا ہے تو جماعت کے مفاد میں ہو گا۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا، علیم ہے، قدرتوں کا مالک ہے، وہ آپ ہی میرے دل سے خیال نکال دے گا۔مجھے اس بارہ میں کسی کے اس تبصرہ کی ضرورت نہیں کہ کیوں کہا۔ہاں حالات سے باخبر رکھیں تا کہ تربیتی نقطۂ نظر سے جہاں کہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہو کہہ سکوں۔لیکن