خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 247

$2003 247 خطبات مسرور کہاں سے آتا ہے۔تو پہلے آپ کی دعوت ہوگئی اور اب یہ پراٹھے بستر سے بھی نکل آئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا: شیخ صاحب ! اللہ تعالیٰ کو آزمایا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔اس کا میرے ساتھ خاص معاملہ ہے۔حضرت خلیفہ اول اپنے ایک دوست کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” میرے ایک دوست بڑے مہمان نواز تھے۔ایک دن ایک مہمان آیا۔عشاء کی نماز کا وقت تھا۔پاس پیسہ تک نہ تھا۔اسے کہا کہ آپ ذرا لیٹ جاویں میں آپ کے کھانے کا بندو بست کرتا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے دعا کی توجہ کی اور کہا افوض امری الی اللہ۔اِنَّ اللہ بصیر بالعبا د مولا تیرا ہی مہمان ہے، یکا یک ایک آدمی نے آواز دی کہ لینا میرے ہاتھ جل گئے۔ایک کاب ( ٹرے) پلاؤ کا تھا۔نہ اس نے اپنا نام بتایا ، نہ ان کو جلدی میں خیال رہا۔وہ کاب مدت تک بمدامانت رہا کوئی مالک پیدا نہ ہوا۔تو تو کل عجیب چیز ہے۔آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی نے صحابہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین اور یہ یقین کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے۔اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ پر توکل کے وہ اعلیٰ معیار قائم کر دئے تھے جو کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔یہاں میں ایک روایت پیش کرتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ پر تو کل اور دعا کی قبولیت پر یقین کا پتہ چلتا ہے۔اور دعا ہمیں بھی کرنی چاہئے۔حضرت طلق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابودرداء کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کا گھر جل گیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ میرا گھر نہیں جلا۔پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا کہ آپ کا گھر جل گیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ میرا گھر نہیں جلا۔پھر تیسرا شخص آیا اور کہا کہ اے ابو درداء ! آگ لگی تھی اور جب آپ کے گھر کے قریب پہنچی تو بجھ گئی۔آپ نے فرمایا کہ مجھے معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔حاضرین مجلس نے حضرت ابودرداء سے کہا کہ آپ کی دونوں باتیں عجیب ہیں۔پہلے (یہ کہنا ) کہ میرا گھر نہیں جلا اور پھر یہ کہنا کہ مجھے علم تھا کہ اللہ ایسا نہیں کرے گا۔آپ نے فرمایا کہ یہ میں نے ان کلمات کی وجہ سے کہا تھا جو میں نے آنحضور ﷺ سے سنے تھے۔آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے