خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 246
$2003 246 خطبات مسرور صاحب کے دل میں خیال آیا کہ حضرت مولوی صاحب کہا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں اگر کہیں جنگل بیابان میں بھی ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے رزق پہنچائے گا اور میں کبھی بھوکا نہیں رہوں گا۔آج ہم بے وقت چلے ہیں پتہ لگ جائے گا کہ رات کو ان کے کھانے کا کیا انتظام ہوتا ہے۔تو کہتے ہیں بٹالہ میں مقامی جماعت کی طرف سے ایک مکان بطور مہمان خانہ ہوا کرتا تھا۔حضرت مولوی صاحب وہاں ایک چار پائی پر لیٹ گئے اور کتاب پڑھنے لگ گئے۔اس وقت اندازاً شام کے چھ بجے کا وقت ہوگا۔اچانک ایک اجنبی شخص آیا اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آج مولوی نورالدین صاحب آئے ہوئے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ میں نے کہا وہ یہ لیٹے ہوئے ہیں۔کہنے لگا حضور ! میری ایک عرض ہے آج شام کی دعوت میرے ہاں قبول فرمائیے۔میں ریلوے میں ٹھیکیداری کرتا ہوں اور میری بیلسٹ ٹرین کھڑی ہوئی ہے اور میں نے امرتسر جانا ہے۔میر املا زم حضور کے لئے کھانا لے آئے گا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا، بہت اچھا۔چنانچہ شام کے وقت اس کا ملازم بڑا پر تکلف کھانا لے کر حاضر ہوا۔اور ہم دونوں نے سیر ہو کر کھالیا۔شیخ صاحب کہنے لگے میرے دل میں خیال آیا کہ ان کی بات تو صحیح ہوگئی اور انہیں خدا نے واقعہ میں کھانا بھجوا دیا۔چونکہ گاڑی رات دس بجے کے بعد چلتی تھی۔میں نے حضرت مولوی صاحب سے عرض کیا کہ اندھیرا ہو رہا ہے، پھر مزدور نہیں ملے گا۔ہم کسی مزدور کو بلا لیتے ہیں اور سٹیشن پر پہنچ جاتے ہیں۔وہاں ویٹنگ روم میں ہم آرام کر لیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا بہت اچھا۔چنانچہ ایک مزدور بلایا اور وہ ہم دونوں کے بستر لے کرسٹیشن پہنچ گیا۔چونکہ گاڑی رات کے دس بجے کے بعد آتی تھی میں نے آپ کا بستر کھول دیا تا کہ حضرت مولوی صاحب آرام فرما لیں۔جب میں نے بستر کھولا تو اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ اس کے اندر سے ایک کاغذ میں لیٹے ہوئے دو پراٹھے نکلے جن کے ساتھ قیمہ رکھا ہوا تھا۔میں سخت حیران ہوا اور میں نے دل میں کہا لو بھئی وہ کھانا بھی ہم نے کھالیا اور یہ خدا کی طرف سے اور کھانا بھی آگیا۔کیونکہ اس کھانے کا ہمیں مطلقا علم نہیں تھا۔میں نے حضرت مولوی صاحب سے عرض کیا کہ حضور جب قادیان سے چلے تھے تو چونکہ اچانک اور بے وقت چلے تھے میں نے دل میں سوچا کہ آج ہم دیکھیں گے کہ مولوی صاحب کا کھانا