خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 21

21 $2003 خطبات مسرور ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْن سے اخذ کیا ہے۔پس ہر غور وفکر کرنے والے کو غور کرنا چاہئے۔(اعجاز المسيح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۳۷ تا ۱۳۹ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو خلافت سے وابستہ رکھے حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :- میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔قرآن تمہارا دستور العمل ہو۔باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الہی کو روکتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔رسول اللہ ﷺ کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہو گئے۔اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے۔اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔وحدت کو ہاتھ سے نہ دو۔دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر از دیاد نعمت ہوتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ ﴾ (ابراہیم: ۸۔لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد ۸) رکھے : ﴿إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيْد - (ابراہیم: ۸) (خطبات نور صفحه ۱۳۱) اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ ”نَحْمَدُكَ وَنُصَلّى۔يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُوْرَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ۔وَاللَّهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ۔سَنُلْقِيْ فِي قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَانْتَهَى أَمْرُ الزَّمَانِ إِلَيْنَا۔أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ۔ترجمہ: ”ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ