خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 226

خطبات مس $2003 226 تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی إنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤدُّوا الأمنتِ إِلى اَهْلِهَا۔وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۔إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ۔إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيْعًا بَصِيْرًا (سورة النساء: ٥٩) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت سننے والا ( اور ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔علامہ فخر الدین رازی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنوں کو تمام امور میں امانتوں کو ادا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔خواہ وہ امور مذہب کے معاملات میں ہوں یا دنیوی امور اور معاملات کے بارہ میں۔اُن کے نزدیک انسان کا معاملہ یا تو اپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے یا بنی نوع انسان کے ساتھ یا اپنے نفس کے ساتھ اور ان تینوں اقسام میں امانت کے حق کی رعایت رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔آپ اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے معاملات میں امانت کی رعایت کرنے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق ان افعال کے ساتھ ہے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یا جن افعال کے کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کو ترک کرنے کے ساتھ۔پھر کہتے ہیں کہ جہاں تک زبان کی امانت کا تعلق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کو کذب بیانی ، غیبت، چغل خوری، نافرمانی، بدعت اور مخش کے لئے نہ استعمال کرے۔اور آنکھ کی امانت یہ ہے کہ انسان