خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 222
$2003 222 خطبات مسرور ایک حدیث ہے حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ وہ ہے جو ان میں سے لوگوں کا سب سے زیادہ شکر گزار ہو۔(تذكرة الحفاظ جلد ١ صفحه ٣٤٢) ایک اور مضمون میں اسی ضمن میں بیان کرنا چاہتا ہوں، بندوں کی شکرگزاری کا۔اور اسی طرح ایک ارشاد یہ بھی ہے کہ جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی ناشکر گزار ہے۔پس اسی لحاظ سے اب جلسے کے بعد میں ان تمام کارکنان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، ان کا شکر گزار ہوں جن میں ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی ہے جنہوں نے رات دن ایک کر کے، انتھک محنت کر کے بڑی خوش اسلوبی سے تمام کاموں کو سر انجام دیا۔انتظامیہ کے اندازہ سے کہیں زیادہ مہمانوں کی آمد کی وجہ سے تمام انتظامات درہم برہم ہونے کا خطرہ تھا۔اور قدرتی طور پر ایسے حالات میں جب کہ موسم بھی قابل اعتبار نہ ہو۔اور پہلے دن تو جیسا کہ سب نے دیکھا، تیز ہوا کی وجہ سے بعض ہلکی مارکیاں جو رہائش کے لئے لگائی گئی تھیں وہ بھی کھڑی نہ رہ سکیں۔رہائش کی جگہ عمومی طور پر ویسے بھی تنگ ہوگئی۔کھانے کا انتظام بھی متاثر ہوسکتا تھا بلکہ آخری دن روٹی پلانٹ بھی خراب ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ کچھ دیر بعد ٹھیک ہو گیا۔تو قدرتی طور پر ایسے حالات میں Panic ہو جانا یا Panic پیدا ہو جانا کوئی ایسی بات نہیں جو انہونی ہو۔لیکن بے انتہا حمد وشکر کے جذبات سے اس پیارے خدا کے آگے سر جھک جاتے ہیں کہ جس نے کسی افراتفری کا ایسے حالات میں احساس بھی پیدا نہیں ہونے دیا اور پھر بے اختیار شکر کے جذبات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت کے اُن کارکنوں کے لئے بھی پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے یورپ کے اس ماحول میں پرورش پائی ، پلے بڑھے، لیکن پھر بھی بے انتہا قربانی کے جذبے کے تحت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی میں حتی الوسع کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔پھر بعد میں صفائی کے کام کو بھی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا اور مجھے امید ہے کہ اب تک اسلام آباد کی گراؤنڈ ز کا علاقہ بھی صاف ہو چکا ہوگا۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے، اپنے بے انتہا فضلوں سے نوازے۔مجھے بڑی فکر تھی ، طبیعی طور پر مجھے فکر ہونی بھی چاہئے تھی۔پہلا جلسہ تھا با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار اور فضل کے