خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 221
خطبات مسرور 221 کرتے ہو تو تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور تم اندھوں میں سے ہو۔“ $2003 (کرامات الصادقین۔صفحہ ٦٥-٦٦) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” تمام محامد جو عالم میں موجود ہیں اور مصنوعات میں پائی جاتی ہیں۔وہ حقیقت میں خدا کی ہی تعریفیں ہیں اور اسی کی طرف راجع ہیں کیونکہ جو خوبی مصنوع میں ہوتی ہے۔وہ حقیقت میں صانع کی ہی خوبی ہے یعنی آفتاب دنیا کو روشن نہیں کرتا حقیقت میں خدا ہی روشن کرتا ہے اور چاند رات کی تاریکی نہیں اٹھا تا حقیقت میں خدا ہی اُٹھا تا ہے اور بادل پانی نہیں برسا تا حقیقت میں خدا ہی برساتا ہے۔اسی طرح جو ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہی بینائی ہے اور جو کان سنتے ہیں وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہی شنوائی ہے اور جو عقل دریافت کرتی ہے وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہی دریافت ہے اور جو کچھ آسمان کے اور زمین کے عناصر او صاف جمیلہ دکھا رہے ہیں اور ایک خوبصورتی اور تروتازگی جو مشہور ہو رہی ہے حقیقت میں وہ اسی صانع کی صفت ہے جس نے کمال اپنی صفت کا ملہ سے ان چیزوں کو بنایا ہے اور پھر بنانے پر ہی انحصار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ ایک رحمت شامل رکھی ہے، جس رحمت سے اس کا بقا اور وجود ہے۔اور پھر صرف اس پر ہی اختصار نہیں کیا بلکہ ایک چیز کو اپنے کمال اعلیٰ تک پہنچایا ہے۔جس سے قدرو قیمت اس شے کی کھل جاتی ہے پس حقیقت میں محسن اور منعم بھی وہی ہے اور جامع تمام خوبیوں کا بھی وہی ہے۔اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے:الحمدلله ربّ العلمين۔“ (الحكم ٢٤ جون ١٩٠٤ ء صفحه (١٥ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ ضروری اور بہت ضروری ہے کہ ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ سے پورے تذلل اور انکسار کے ساتھ ہر وقت دعا مانگتا ہے کہ وہ اُسے کچی معرفت اور حقیقی بصیرت اور بینائی عطا کرے اور شیطان کے وساوس سے محفوظ رکھے“۔رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ ء۔صفحه (۳۶) آپ مزید فرماتے ہیں: ”قصہ مختصر دعا سے، تو بہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحه ۱۳۵ جدید ایڈیشن)