خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 211
خطبات مسرور 211 $2003 (تذکره صفحه ٤٧١ - مطبوعه ١٩٦٩ء) - اگست ۱۹۰۳ ء ہی کا ایک الہام ہے "يَسْتَلُوْنَكَ عَنْ شَانِكَ قُلِ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ إِنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَارَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا أَلَمْ تَرْكَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحبِ الْفِيْلِ۔اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَصْلِيْلِ۔كَتَبَ اللَّهُ لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِيْ جِئْتَ فَصْلَ الْفَتح“۔تیری شان کے بارے میں وہ پوچھیں گے تو کہہ کہ وہ خدا ہے جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے تب ہم نے انہیں کھول دیا۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔کیا اس نے ان کی تدبیر کو ضائع نہ کر دیا۔اللہ نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔تو فتح کے موقع پر آیا۔(تذکره صفحه ٤٨٠ ـ مطبوعه ١٩٦٩ء) اکتوبر ۱۹۰۳ء کا ایک الہام ہے اِنِّي أُنَوِّرُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔ظَفَرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ مُّبِيْنٌ ظَفَرٌ وَفَتْحٌ مِنَ الله فَحْرٍ أَحْمَد إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا۔اس کا ترجمہ ہے۔میں روشن کروں گا ہر اس شخص کو جو اس گھر میں ہے۔خدا کی طرف سے ظفر اور کھلی کھلی فتح۔خدا کی طرف سے ظفر اور فتح۔احمد کا فخر۔میں نے خدائے رحمان کے لئے روزہ کی منت مانی۔(تذکره صفحه ٤٩٥ ـ مطبوعه ١٩٦٩ء) نومبر ۱۹۰۳ء میں الہام ہوا : ”میری فتح ہوئی۔میرا غلبہ ہوا“۔(تذکره صفحه ٤٩٨ - مطبوعه ١٩٦٩ء) پھر ۲۶ نومبر ۱۹۰۳ء کا ایک الہام اس طرح ہے : لَكَ الْفَتْحُ وَلَكَ الْغَلَبَةُ“۔تیرے لئے فتح ہے اور تیرے لئے غلبہ ہے۔آپ فرماتے ہیں: (تذکره صفحه ٤٩٨ - مطبوعه ١٩٦٩ء) اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا وے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نا مرا در کھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔یہاں تک کہ قیامت آ