خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 204
204 $2003 خطبات مسرور یا ماہ بماہ جمع کرتے جائیں اور الگ رکھتے جائیں تو بلا دقت سرمایہ سفر میسر آجاوے گا۔گویا یہ سفر مفت میسر ہو جائے گا۔“ ( مجموعه اشتهارات جلد اول مطبوعه لندن صفحه ۳۰۲-۳۰۳ آپ نے اسی بارہ میں مزید فرمایا: ” ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اُکتائیں۔“ نیز فرمایا: "جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتا ہے۔یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہوگا۔اسے ڈرنا چاہئے کہ وہ شرک میں مبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا عیال ہو جائے تو ہمارے مہمات کا متکفل خدا تعالیٰ ہے۔ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دور پھینکنا چاہئے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں۔ہم تو نکھے ہیں۔یوں ہی روٹی بیٹھ کر کیوں تو ڑا کریں۔وہ یہ یا درکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالا ہے کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔(خط مولانا عبد الكريم صاحب ٦ جنوری ١٩٠٠ مندرجه الحكم جلد ٤ صفحه ٦ تا ١١، ملفوظات جلد اوّل صفحه ٤٥٥) الحمد للہ ! کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ یہ پیاری جماعت اس عشق و محبت کی وجہ سے اور اس تعلیم اور تربیت کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری کی ہے، آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک تڑپ کے ساتھ اس جلسہ میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں لوگ اور جہاں خلیفتہ المسیح موجود ہو وہاں تو وہ ضرور آنا چاہتے ہیں اور بڑی تڑپ کے ساتھ آتے ہیں ، بڑے اخراجات کر کے آتے ہیں۔لیکن حالات کی وجہ سے باوجود خواہش اور تڑپ کے لاکھوں کروڑوں احمدی ایسے بھی ہیں جو پر شکستہ اور اپنی خواہشوں کو دبائے بیٹھے ہیں اور اس جلسہ میں شامل