خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 203
203 $2003 خطبات مسرور کے لئے آوے۔کیونکہ اکثر دلوں میں ابھی ایسا اشتعال شوق نہیں کہ ملاقات کے لئے بڑی بڑی تکالیف اور بڑے بڑے درجوں کو اپنے پر روا رکھ سکیں۔لہذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قو یہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔“ (مجموعه اشتهارات جلد اوّل صفحه ۳۰۲) آپ مزید فرماتے ہیں:۔حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دُعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آ جانا چاہئے اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔اور نیز ان دوستوں کے لئے خاص دعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے۔اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر یک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا۔۔۔۔اور اس روحانی جلسے میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہونگے جو انشاء اللہ القدر وقتا فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے۔“ (آسمانی فیصله اشتهار ۳۰/دسمبر ۱۸۹۱1891 ء روحانی خزائن جلد ٤ صفحه ٣٥١-٣٥٢) پھر آپ نے فرمایا: " لا زم ہے کہ اس جلسے پر جو کئی با برکت مصالح پر مشتمل ہے ہر ایک ایسے صاحب ضرور تشریف لائیں جو زاد راہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور اپنا سرمائی بستر لحاف وغیرہ بھی بقدر ضرورت ساتھ لاویں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی راہ میں ادنی ادنی حرجوں کی پرواہ نہ کریں۔“ آپ فرماتے ہیں :- وو اشتهار ۱۷ دسمبر ۱۸۹۲ ء، مجموعه اشتهارات جلد اوّل صفحه ٣٤١) اور کم مقدرت احباب کے لئے مناسب ہوگا کہ پہلے ہی سے اس جلسے میں حاضر : ہونے کا فکر رکھیں۔اور اگر تد بیر اور قناعت شعاری سے کچھ تھوڑا تھوڑا سرمایہ خرچ سفر کے لئے ہر روز