خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 196

خطبات مسرور 196 $2003 پھر گاڑیاں پارک کرتے وقت خیال رکھیں کہ وہ لوگوں کے گھروں کے سامنے یا ممنوعہ جگہوں پر پارک نہ ہوں۔نہ بیت الفضل کی سڑکوں پر اور نہ اسلام آباد میں۔ٹریفک کے قواعد کو ملحوظ رکھیں اور جلسہ گاہ میں شعبہ یار کنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں۔یہاں قیام کے دوران دوسرے ملکی قوانین کی بھی پوری پاسداری کریں ، پوری پابندی کریں اور بالخصوص ویزا کی میعاد ختم ہونے سے پہلے پہلے ضرور واپس تشریف لے جائیں۔اور جو دوست جلسہ سالانہ کی نیت سے ویزا لے کر یہاں آئے ہیں انہیں بہر حال اس کی بہت سختی سے پابندی کرنی ہوگی۔پھر صفائی کے آداب ہیں۔ٹائلٹ میں صفائی کو لوظ رکھیں۔یادرکھیں کہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔پھر یہ ہے کہ خواتین کے لئے ہدایت ہے کہ خواتین گھومنے پھرنے میں احتیاط اور توجہ کی رعایت رکھیں۔تاہم جو خواتین احمدی مسلمان نہیں اور پردے کی ایسی پابندی نہیں کرتیں ان سے صرف پردے کی درخواست کرنا ہی کافی ہے۔ہرگز کوئی زبر دستی کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہونی چاہئے۔اگر کسی وجہ سے کسی احمدی کو بھی نقاب کی دقت ہو تو پھر ایسی خواتین میک اپ میں نہیں ہونی چاہئیں۔سادہ رہیں کیونکہ میک اپ کرنا بہر حال مناسب نہیں۔سرڈھانے کی عادت کو اچھی طرح سے رواج دیں۔ایک ایسا ماحول پیدا ہو، خواتین کی طرف سے نظر آنا چاہئے کہ روحانی ماحول میں ہم یہ دن بسر کر رہے ہیں۔پردہ نہ کرنے کے بہانے نہیں تلاش ہونے چاہئیں۔اگر کوئی مجبوری ہے تو بہر حال جس حد تک حجاب ہے اس کو قائم رکھنا چاہئے اور یہ حکم بھی ہے۔پھر ایک ہدایت ان لوگوں کے لئے ہے جو بعض دفعہ، عموما تو یہ نہیں ہوتا، لیکن بعض دفعہ بعض مقامی لوگ لفٹ دیتے ہیں مہمانوں کو اور پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔تو بہر حال مہمان نوازی کے پیش نظر اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔پھر مہمانوں کی عزت و احترام اور خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور محبت خلوص اور ایثار و قربانی کے جذ بہ سے ان کی بے لوث خدمت کریں۔یہ پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں۔کارکنان کو مہمانوں کے ساتھ نرم لہجہ اور خوش دلی سے بات کرنی چاہئے۔اس میں پہلے بھی حدیث کے حوالے سے عرض