خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 178
$2003 178 خطبات مسرور کرتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہیں کرو گے اور میری اس وصیت کو یاد رکھو گے۔(موطا امام مالک اور زرقانی باب ترغيب في الجهاد) جب رسول کریم یہ شہداء کو دفن کر کے مدینہ واپس گئے تو پھر عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لئے نکل آئے۔رسول کریم ﷺ کی اونٹنی کی باگ سعد بن معادا مدینہ کے رئیس نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے دوڑے جاتے تھے۔شاید دنیا کو یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھا ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خیریت سے اپنے گھر واپس لے آئے۔شہر کے پاس انہیں اپنی بڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی۔اُحد میں اُس کا ایک بیٹا عمرو بن معاد بھی مارا گیا تھا۔اسے دیکھ کر سعد بن معاود نے کہا : یا رسول اللہ : امی۔اے اللہ کے رسول میری ماں آ رہی ہے۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔بڑھیا آگے بڑھی اور اپنی کمزور پھٹی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کی شکل نظر آ جائے۔آخر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہوگئی۔رسول اللہ اللہ نے فرمایا مائی مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔اس پر نیک عورت نے کہا حضور ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ بہر حال رسول کریم خیریت سے مدینہ پہنچے۔گواس لڑائی میں بہت سے مسلمان مارے بھی گئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے لیکن پھر بھی اُحد کی جنگ شکست نہیں کہلا سکتی۔جو واقعات میں نے اوپر بیان کئے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی فتح تھی، ایسی فتح کہ قیامت تک مسلمان اس کو یاد کر کے اپنے ایمان کو بڑھا سکتے ہیں اور بڑھاتے رہیں گئے۔( دیباچه تفسیر القرآن صفحه ١٥۱-١٥٧) اس ضمن میں ایک حدیث ہے۔حضرت مصعب بن عمیر کے آخری کلمات۔حضرت مصعب بن عمیر جنگ اُحد میں علمبردار اسلام تھے۔جب اچانک جنگ کی حالت بدلی تو یہ بھی کفار کے نرغے میں پھنس گئے۔اس وقت مشرکین کے شہسوارا بن قمیہ نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا جس سے