خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 176

$2003 176 خطبات مسرور رسول کریم ﷺ کے منہ پر آ گرے۔مگر یہ چند لوگ کب تک اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر سکتے تھے۔لشکر کفار کا ایک گروہ آگے بڑھا اور رسول کریم ﷺ کے گرد کے سپاہیوں کو دھکیل کر اُس نے پیچھے کر دیا۔رسول کریم و تن تنہا پہاڑ کی طرح وہاں کھڑے تھے کہ زور سے ایک پتھر آپ کے خو د پر لگا اور خود کے کیل آپ کے سر میں گھس گئے اور آپ بیہوش ہو کر ان صحابہ کی لاشوں پر جاگرے جو آپ کے اردگر دلڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھے۔اس کے بعد کچھ اور صحابہ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اُن کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں۔کفار نے آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر سمجھا کہ آپ مارے جاچکے ہیں۔چنانچہ مکہ کا لشکر اپنی صفوں کو درست کرنے کے لئے پیچھے ہٹ گیا۔جو صحابہ آپ کے گرد کھڑے تھے اور جن کو کفار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے گیا تھا ان میں حضرت عمر بھی تھے۔جب آپ نے دیکھا کہ میدان سب لڑنے والوں سے صاف ہو چکا ہے تو آپ کو یقین ہو گیا کہ رسول کریم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں ایک ہی وقت میں قیصر اور کسریٰ کا مقابلہ بڑی دلیری سے کیا اور اس کا دل کبھی نہ گھبرایا اور کبھی نہ ڈرا وہ ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔اتنے میں مالک نامی ایک صحابی جو اسلامی لشکر کی فتح کے وقت پیچھے ہٹ گئے تھے کیونکہ انہیں فاقہ تھا اور رات سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا جب فتح ہو گئی تو وہ چند کھجوریں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تا کہ انہیں کھا کر اپنی بھوک کا علاج کریں۔وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے حضرت عمر تک جا پہنچے اور عمر گوروتے ہوئے دیکھ کر نہایت ہی حیران ہوئے اور حیرت سے پوچھا: عمر ! آپ کو کیا ہوا، اسلام کی فتح پر آپ کو خوش ہونا چاہئے یا رونا چاہئے؟ عمر نے جواب میں کہا: ما لک! شاید تم فتح کے معا بعد پیچھے ہٹ آئے تھے۔تمہیں معلوم نہیں کہ لشکر کفار پہاڑی کے دامن سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر پر حملہ آور ہوا اور چونکہ مسلمان پراگندہ ہو چکے تھے ان کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا۔رسول الله له چند صحابہ میت ان کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔مالک نے کہا: عمر اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو آپ یہاں بیٹھے کیوں رو ر ہے ہیں۔جس دنیا میں ہمارا محبوب گیا ہے ہمیں بھی تو وہیں جانا چاہئے۔یہ کہا اور وہ آخری کھجور جو آپ کے ہاتھ میں تھی جسے آپ