خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 175
175 $2003 خطبات مسرور نے فرمایا: جواب کیوں نہیں دیتے ؟۔صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم کیا جواب دیں ؟۔حضور ﷺ نے فرمایا: تم کہو الله اعلى و اَجَلُّ الله ہی سب سے اعلیٰ اور سب سے بڑا ہے ،اس کے مقابل کوئی بلند نہیں ہے۔ابوسفیان نے جواب میں نعرہ لگایا: لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزّى لَكُمْ ہمیں عزی بت کی مدد حاصل ہے اور تمہیں کسی دیوی کی مدد حاصل نہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا : جواب دو۔صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! جواب میں ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: کہو اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ۔اللہ ہمارا مولیٰ اور ہمارا آقا ہے اور تمہارا ایسا کوئی مولی اور آقا نہیں جو اس کے مقابلہ میں تمہاری مدد کر سکے۔(صحیح بخاری۔کتاب الجهاد والسير باب يكره من التنازع والاختلاف في الحرب) اب حضرت مصلح موعود کا اس سلسلہ میں جو بیان ہے اس کو میں پڑھتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ کافروں کا تعاقب کرنے کی وجہ سے مسلمان اتنے پھیل چکے تھے کہ کوئی باقاعدہ اسلامی لشکران لوگوں کے مقابلہ میں نہیں تھا۔اکیلا اکیلا سپاہی میدان میں نظر آ رہا تھا جن میں سے بعض کو ان لوگوں نے مار دیا باقی اس حیرت میں یہ کہ کیا ہو گیا ہے پیچھے کی طرف دوڑے۔چند صحابہ دوڑ کر رسول اللہ کے گرد جمع ہو گئے کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہیں تھی۔کفار نے شدت کے ساتھ اس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم نے کھڑے تھے۔یکے بعد دیگرے صحابہ آپ کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے لگے۔علاوہ شمشیر زنوں کے تیرانداز اونچے ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رسول کریم ﷺ کی طرف بے تحاشہ تیر مارتے تھے۔اس وقت طلحہ نے جو قریش میں سے تھے اور مکہ کے مہاجرین میں شامل تھے یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن سب کے سب تیر رسول اللہ ﷺ کے منہ کی طرف پھینک رہا ہے اپنا ہاتھ رسول اللہ اللہ کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا۔تیر کے بعد تیر جو نشانہ پر گرتا تھا وہ طلحہ کے ہاتھ پر گرتا تھا۔مگر جانباز اور وفادار صحابی اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہیں دیتا تھا۔اس طرح تیر پڑتے گئے اور طلحہ منکا ہاتھ زخموں کی شدت کی وجہ سے بالکل بے کار ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ ان کا باقی رہ گیا۔احد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہ سے پوچھا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی؟ طلحہ نے جواب دیا کہ درد بھی ہوتی تھی اور اف بھی نکلنا چاہتی تھی ، لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہاتھ ہل جائے اور تیر