خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 159
$2003 159 خطبات مسرور کرتا ہے تو جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے بہت سے ماں باپ اپنے بچوں کی نافرمانیوں کا ذکر کرتے ہیں اپنے خطوط میں۔اس ضمن میں والدین کا جہاں فرض ہے اور سب سے بڑا فرض ہے کہ پیدائش سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک بچوں کے نیک فطرت اور صالح ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ان کی جائز اور ناجائز بات کو ہمیشہ مانتے نہ رہیں اور اولاد کی تربیت اور اٹھان صرف اس نیت سے نہ کریں کہ ہماری جائیدادوں کے مالک بنیں جیسا کہ میں آگے چل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات میں اس کا ذکر کروں گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی بچوں کو بھی خوف خدا کرنا چاہئے کہ ماؤں کے حقوق کا خیال رکھیں ، باپوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔یہ نہ ہو کہ کل کو ان کے بچے ان کے سامنے اسی طرح کھڑے ہوجائیں۔کیونکہ آج اگر یہ نہ سمجھے اور اس امر کو نہ روکا تو پھر یہ شیطانی سلسلہ کہیں جا کر رکے گا نہیں اور کل کو یہی سلوک ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے اور احمدیت کی اگلی نسل پہلے سے بڑھ کر دین پر قائم ہونے والی اور حقوق ادا کرنے والی نسل ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی اولاد کے حق میں دعا کرتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ: میری اولاد جو تیری عطا ہے ہر اک کو دیکھ لوں وہ پارسا ہے دنیاوی نعماء کی بھی دعا کی ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ دعا کی ہے کہ: یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا (در ثمین اردو - صفحه ٤٨ تا ٤٩) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان دعاؤں کو بھی سنا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا آپ کو بھی دوبار الہاما سکھائی گئی۔چنانچہ پہلا الہام مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا اور دوسری بار۱۸۹۳ء میں یہ الہام ہوا: رَبِّ اغْفِرُ وَارْحَمُ مِّنَ السَّمَاءِ۔رَبِّ لَا تَذَرُنِي فَرْدًا وَّ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ۔