خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 157

157 خطبات مسرور بن گئیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے حضرت زکریا کی دعاسنی اور اُن کے گھر میں بچہ پیدا ہو گیا۔“ $2003 (تفسیر کبیر جلد پنجم۔صفحه ۱۱۹) حضرت زکریا علیہ السلام کی اس دعا کو قرآن کریم نے سورۃ انبیاء کی آیت ۹۰ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما دیا ہے۔دعا یہ تھی: وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَى رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَّ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ﴾ اور زکریا ( کا بھی ذکر کر ) جب اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔آپ کی اس دعا کی قبولیت کا ذکر سورہ مریم کی آیت ۸ میں مذکور ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يزكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا - یعنی اے زکریا ! یقیناً ہم تجھے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام بیٹی ہوگا۔ہم نے اس کا پہلے کوئی ہم نام نہیں بنایا۔اور پھر اس دعا کی برکت سے جو بیٹا عطا ہوا، اُس کی خوبیاں سورہ مریم کی تیرھویں آیت سے لے کر سولہویں آیت تک بیان کی گئی ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: اے بی ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔اور ہم نے اسے بچپن ہی سے حکمت عطا کی تھی۔نیز اپنی جناب سے نرم دلی اور پاکیزگی بخشی تھی اور وہ پر ہیز گار تھا۔اور اپنے والدین سے حسن سلوک کرنے والا تھا اور ہر گز سخت گیر ( اور ) نافرمان نہیں تھا۔اور سلامتی ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن اُسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں :- یہ کیسی لطیف دعا ہے اور کس طرح دعا کے چاروں کونے اس میں پورے کر دئے گئے ہیں۔اس دعا کو اگر ہم اپنے الفاظ میں بیان کریں تو اس کی یہ صورت ہوگی کہ : "اے میرے خدا! میرے اندرونی قومی مضمحل ہو گئے ہیں، میرا بیرونی چہرہ مسخ ہو گیا ہے، میں ہمیشہ سے ہی تیرے الطاف خسروانہ کا عادی ہوں۔اس لئے مایوسیاں اور نا کا میاں میں نے کبھی دیکھی نہیں۔ناز کرنے کی عادت مجھ میں پیدا ہو چکی ہے۔رشتہ دار میرے بُرے اور موت کے بعد گڈی سنبھالنے کے منتظر۔