خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 153
خطبات مسرور 153 $2003 فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔(آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ٥٨٥٧ پھر آپ فرماتے ہیں : میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں۔آئندہ ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ اسے سنے یا نہ سنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ اور ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی ، میری موت ، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھے ﴿أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِيْن۔جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا ، خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی نہیں پاسکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں۔پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔( الحكم جلد ٤ نمبر ٣١ بتاريخ ٣١/اگست ۱۹۰۰ ء صفحه (٤ پھر آپ نے فرمایا: نہایت امن کی راہ یہی ہے کہ انسان اپنی غرض کو صاف کرے اور خالصتاً رو بخدا ہو۔اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو صاف کرے اور بڑھائے اور وجہ اللہ کی طرف دوڑے۔وہی اس کا مقصود اور محبوب ہو اور تقویٰ پر قدم رکھ کر اعمال صالحہ بجالا وے۔پھر سنت اللہ اپنا کام کرے گی۔اس کی نظر نتائج پر نہ ہو بلکہ نظر تو اسی ایک نقطہ پر ہو، اس حد تک پہنچنے کے لئے اگر یہ شرط ہو کہ وہاں پہنچ کر سب سے زیادہ سزا ملے گی تب بھی اسی کی طرف جاوے یعنی کوئی ثواب یا عذاب اس کی طرف جانے کا اصل مقصد نہ ہو، محض خدا تعالیٰ ہی اصل مقصد ہو۔جب وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف آئے گا اور اس کا قرب حاصل ہوگا تو یہ وہ سب کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہ گزرا ہوگا اور کشوف اور خواب تو کچھ چیز ہی نہ ہوں گے۔پس میں تو اس راہ پر چلانا چاہتا ہوں اور یہی اصل غرض ہے۔(الحكم جلد ۱۰ مورخه ۱۰ / دسمبر ١٩٠٦ ء صفحه (٤)