خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 152

خطبات مسرور 152 میں جانے والی ہے اور اس لحاظ سے ان کی تربیت ہونی چاہئے۔$2003 اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ اقتباسات پڑھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی کا وقف کرنا جو حقیقت اسلام ہے، دو قسم پر ہے۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جاوے اور اس کی عبادت اور محبت اور خوف اور رجا میں کوئی دوسرا شریک باقی نہ رہے اور اس کی تقدیس اور تسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور او امر اور حدود اور آسمانی قضاء و قدر کے اُمور بہ دل و جان قبول کئے جائیں۔اور نہایت نیستی اور تذلیل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونوں اور تقدیروں کو با ارادت تامہ سر پر اٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اُس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اس کے آلاء اور نعماء کے پہچاننے کے لئے ایک قومی رہبر ہیں، بخوبی معلوم کر لی جائیں۔دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کی یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچی غمخواری میں اپنی زندگی وقف کر دی جاوے، دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دکھ اٹھا ویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کرلیں۔(آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه۔۔(٦٠) پھر حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں: ”مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے۔اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے۔اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیوے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالص اللہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجا لا دے مگر ایسے ذوق وشوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی