خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 151

151 $2003 خطبات مسرور میں کھیلنے کے بجائے خدا کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں اور جس طرح ایک چیز دوسرے کے سپرد کر دی جاتی ہے تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ آپ یہ بچے شروع ہی سے خدا کے سپر د کر سکتے ہیں اور درمیان کے سارے واسطے، سارے مراحل ہٹ جائیں گے۔رسمی طور پر تحریک جدید سے بھی واسطہ رہے گا یعنی وکالت وقف نو سے۔اور نظام جماعت سے بھی واسطہ رہے گا۔مگر فی الحقیقت بچپن ہی سے جو بچے آپ خدا کی گود میں لا ڈالیں خدا ان کو سنبھالتا ہے، خود ہی ان کا انتظام فرماتا ہے، خود ہی ان کی نگہداشت کرتا ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدا نے نگہداشت فرمائی۔آپ لکھتے ہیں: ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثلِ طفلِ شیر خوار پس ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو اور اپنے واقفین کے وجود کو خدا کے سپر د کر دیں اور خدا کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں“۔(خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر ۱۹۸۹ء) پھر بچوں میں یہ احساس بھی پیدا کریں کہ تم واقف زندگی ہو اور فی زمانہ اس سے بڑی کوئی اور چیز نہیں۔اپنے اندر قناعت پیدا کرو، نیکی کے معاملہ میں ضرور اپنے سے بڑے کو دیکھو اور آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔لیکن دنیاوی دولت یا کسی کی امارت تمہیں متاثر نہ کرے بلکہ اس معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو اور خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دین کی خدمت کی توفیق دی ہے۔اور اس دولت سے مالا مال کیا ہے۔کسی سے کوئی توقع نہ رکھو۔ہر چیز اپنے پیارے خدا سے مانگو۔ایک بڑی تعداد ایسے واقفین نو بچوں کی ہے جو ما شاء اللہ بلوغت کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ان کو خود بھی اب ان باتوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ضمناًیہ بات بھی کر دوں کہ حضور رحمہ اللہ نے بھی ایک دفعہ اظہار فرمایا تھا کہ واقفین نو بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد جو ہے ان کی تربیت ایسے رنگ میں کرنی چاہئے اور ان کے ذہن میں یہ ڈالنا چاہئے کہ انہیں مبلغ بننا ہے۔اور آئندہ زمانے میں جو ضرورت پیش آنی ہے مبلغین کی بہت بڑی تعداد کی ضرورت ہے اس لئے اس نہج پر تربیت کریں کہ بچوں کو پتہ ہو کہ اکثریت ان کی تبلیغ کے میدان