خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 149

$2003 149 خطبات مسرور محبت بھرا بنا ئیں کہ بچے فارغ وقت میں گھر سے باہر گزارنے کی بجائے ماں باپ کی صحبت میں گزارنا پسند کریں۔ایک دوستانہ ماحول ہو۔بچے کھل کر ماں باپ سے سوال بھی کریں اور ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر قسم کی باتیں کرسکیں۔اس لئے ماں باپ دونوں کو بہر حال قربانی دینی پڑے گی۔جو عہد اپنے رب سے والدین نے باندھا ہے اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بہر حال والدین نے بھی قربانی دینی ہے۔اور یہ آپ پہلے بھی سن چکے ہیں اور حضور نے یہی نصیحت فرمائی ہے والدین کو بھی ہمیں بھی یہی کہتا ہوں۔بعض دفعہ بعض والدین اپنے حقوق تو چھوڑتے نہیں بلکہ ناجائز غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زور یہ ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے بچے وقف نو میں ہیں اس لئے ہم نے اگر کوئی غلطی کر بھی لی ہے تو ہم سے نرمی کا سلوک کیا جائے۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔پھر یہ بات واضح کروں کہ کسی بھی قسم کی برائی دل میں تب راہ پاتی ہے جب اس کے اچھے یا برے ہونے کی تمیز اُٹھ جائے۔بعض دفعہ ظاہر اہر قسم کی نیکی ایک شخص کر رہا ہوتا ہے۔نمازیں بھی پڑھ رہا ہے، مسجد جارہا ہے ، لوگوں سے اخلاق سے بھی پیش آرہا ہے لیکن نظام جماعت کے کسی فرد سے کسی وجہ سے ہلکا سا شکوہ بھی پیدا ہو جائے یا اپنی مرضی کا کوئی فیصلہ نہ ہوتو پہلے تو اس عہد یدار کے خلاف دل میں ایک رنجش پیدا ہوتی ہے۔پھر نظام کے بارہ میں کہیں ہلکا سا کوئی فقرہ کہہ دیا، اس عہد یدار کی وجہ سے۔پھر گھر میں بچوں کے سامنے بیوی سے یا کسی اور عزیز سے کوئی بات کر لی تو اس طرح اس ماحول میں بچوں کے ذہنوں سے بھی نظام کا احترام الجھ جاتا ہے۔اس احترام کو قائم کرنے کے لئے بہر حال بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے الفاظ میں یہ نصیحت آپ تک پہنچاتا ہوں۔بہت ضروری ہے کہ ( واقفین نو کو ) نظام کا احترام سکھایا جائے۔پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے نظام جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہدیدار کے خلاف شکوہ ہو۔وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کے لئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہرا زخم محسوس کریں گے۔یہ ایسا زخم ہوا کرتا ہے کہ جس کو لگتا ہے اس کو کم لگتا ہے،