خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 145
$2003 145 خطبات مسرور ہیں اس لئے کہ ان کو اچھا لگتا ہے دیکھنے میں، خدا کے حضور اٹھنا ، بیٹھنا، جھکنا ان کو پیارا لگتا ہے اور وہ ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔مگر وہ نماز نہیں، محض ایک نقل ہے جو اچھی نقل ہے۔لیکن جب سات سال کی عمر تک بچہ پہنچ جائے تو پھر اس کو با قاعدہ نماز کی تربیت دو۔اس کو بتاؤ کہ وضوکرنا ہے،اس طرح کھڑے ہونا ہے، قیام و قعود، سجدہ وغیرہ سب اس کو سمجھاؤ۔اس کے بعد وہ بچہ اگر دس سال کی عمر تک، پیار و محبت سے سیکھتا رہے، پھر دس اور بارہ کے درمیان اس پر کچھ پختی بے شک کرو۔کیونکہ وہ کھلنڈری عمر ایسی ہے کہ اس میں کچھ معمولی سزا ، کچھ سخت الفاظ کہنا یہ ضروری ہوا کرتا ہے بچوں کی تربیت کے لئے۔تو جب وہ بلوغ کو پہنچ جائے ، بارہ سال کی عمر کو پہنچ جائے پھر اس پر کوئی سختی کی اجازت نہیں۔پھر اس کا معاملہ اور اللہ کا معاملہ ہے اور جیسا چاہے وہ اس کے ساتھ سلوک فرمائے۔توا نسانی تربیت کا دائرہ یہ سات سال سے لے کر بلکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے پہلے سے بھی شروع ہو جاتا ہے، بارہ سال کی یعنی بلوغت کی عمر تک پھیلا ہوا ہے۔اس کے بعد بھی تربیت تو جاری رہتی ہے مگر وہ اور رنگ ہے۔انسان اپنی اولاد کا ذمہ دار بارہ سال کی یعنی بلوغت کی عمر تک ہے۔بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو کہنے میں چھوٹی ہیں لیکن اخلاق سنوار نے کے لحاظ سے انتہائی ضروری ہیں مثلاً کھانا کھانے کے آداب ہیں یہ ضرور سکھانا چاہئے۔اب یہ ایسی بات ہے جو گھر میں صرف ماں باپ ہی کر سکتے ہیں یا ایسے سکول اور کالجز جہاں ہوٹل ہوں اور بڑی کڑی نگرانی ہو وہاں یہ آداب بچوں کو سکھائے جاتے ہیں لیکن عموماً ایک بہت بڑی تیسری دنیا کے سکولوں کی تعداد ایسی ہے جہاں ان باتوں پر اس طرح عمل نہیں ہوتا اس لئے بہر حال یہ ماں باپ کا ہی فرض بنتا ہے۔لیکن یہاں میں ضمناً یہ ذکر کرنا چاہوں گا۔ربوہ کی ایک مثال ہے مدرستہ الحفظ کی جہاں پانچویں کلاس پاس کرنے کے بعد بچے داخل ہوتے ہیں۔مختلف گھروں سے مختلف خاندانوں سے مختلف ماحول سے، دیہاتوں سے ، شہروں سے بچے آتے ہیں لیکن وہاں میں نے دیکھا ہے کہ ان کی تربیت ماشاءا للہ ایسی اچھی ہے اور ان کی ایسی اعلیٰ نگرانی ہوتی ہے اور ان کو ایسے اچھے اخلاق سکھائے گئے ہیں حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ۔اتنے سلجھے ہوئے طریق سے بچے کھانا کھاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔باوجود مختلف قسم کے بچوں کے ماحول ہے کہ مثلاً یہی ہے کہ بسم اللہ پڑھ کے کھائیں، اپنے