خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 144
$2003 144 خطبات مسرور بہت احتیاط سے ان کی تربیت کریں اور ان کو وفا کا سبق دیں اور بار بار دیں۔اپنے بچوں کو سطحی چالا کیوں سے بھی بچائیں۔بعض بچے شوخیاں کرتے ہیں اور چالاکیاں کرتے ہیں اور ان کو عادت پڑ جاتی ہے۔وہ دین میں بھی پھر ایسی شوخیوں اور چالا کیوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ ان شوخیوں کی تیزی خود ان کے نفس کو ہلاک کر دیتی ہے۔اس لئے وقف کا معاملہ بہت اہم ہے۔واقفین بچوں کہ یہ سمجھائیں کہ خدا کے ساتھ ایک عہد ہے جو ہم نے تو بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے لیکن اگر تم اس بات کے متحمل نہیں ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ایک گیٹ (Gate) اور بھی آئے گا۔جب یہ بچے بلوغت کے قریب پہنچ رہے ہوں گے، اس وقت دوبارہ جماعت ان سے پوچھے گی کہ وقف میں رہنا چاہتے ہو یا نہیں چاہتے؟۔وقف وہی ہے جس پر آدمی وفا کے ساتھ تا دم آخر قائم رہتا ہے۔ہر قسم کے زخموں کے باوجود انسان گھٹتا ہوا بھی اسی راہ پر بڑھتا ہے، واپس نہیں مڑا کرتا“۔(خطبه جمعه ارشاد فرموده ۱۰ / فروی ۱۹۸۹ء) اس کے علاوہ ایک اور اہم بات اور یہ بھی میرے نزدیک انتہائی اہم باتوں میں سے ایک ہے بلکہ سب سے اہم بات ہے کہ بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں۔کیونکہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین نہیں۔اس کی عادت بھی بچوں کو ڈالنی چاہئے اور اس کے لئے سب سے بڑا والدین کا اپنا نمونہ ہے۔اگر خود وہ نمازی ہوں گے تو بچے بھی نمازی بنیں گے۔نہیں تو صرف ان کی کھو کھی نصیحتوں کا بچوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع فرماتے ہیں کہ : ” بچپن سے تربیت کی ضرورت پڑتی ہے، اچانک بچوں میں یہ عادت نہیں پڑا کرتی۔اس کا طریقہ آنحضرت ﷺ نے یہ سمجھایا ہے کہ سات سال کی عمر سے اس کو ساتھ نماز پڑھانا شروع کریں اور پیار سے ایسا کریں۔کوئی سختی کرنے کی ضرورت نہیں، کوئی مارنے کی ضرورت نہیں محبت اور پیار سے اس کو پڑھاؤ ،اس کو عادت پڑ جاتی ہے۔دراصل جو ماں باپ نمازیں پڑھنے والے ہوں ان کے سات سال سے چھوٹی عمر کے بچے بھی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ہم نے تو گھروں میں دیکھا ہے اپنے نواسوں وغیرہ کو بالکل چھوٹی عمر کے ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو سال کی عمر کے ساتھ آکے تو نیت کر لیتے ہیں اور نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے