خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 143
143 $2003 (خطبه جمعه ۰۱ / فروری ۹۸۹۱ء) خطبات مسرور نے تو اپنی صاف نیت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بدقسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں اگر ان کے باوجود جماعت اس کے لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں ورنہ اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے۔والدین نے تو اپنے بچوں کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔جماعت نے ان کی صحیح تربیت اور اٹھان کے لئے پروگرام بھی بنائے ہیں لیکن بچہ نظام جماعت کی تربیت میں تو ہفتہ میں چند گھنٹے ہی رہتا ہے۔ان چند گھنٹوں میں اس کی تربیت کا حق ادا تو نہیں ہوسکتا اس لئے یہ بہر حال ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تربیت پر توجہ دیں۔اور اس کے ساتھ پیدائش سے پہلے جس خلوص اور دعا کے ساتھ بچے کو پیش کیا تھا اس دعا کا سلسلہ مستقلاً جاری رکھیں یہاں تک کہ بچہ ایک مفید وجود بن کر نظام جماعت میں سمویا جائے۔بلکہ اس کے بعد بھی زندگی کی آخری سانس تک ان کے لئے دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ بگڑتے پتہ نہیں لگتا اس لئے ہمیشہ انجام بخیر کی اور اس وقف کو آخر تک نبھانے کی طرف والدین کو بھی دعا کرتے رہنا چاہئے۔چند باتیں جو تربیت کے لئے ضروری ہیں اب میں آگے واقفین نو بچوں کی تربیت کے لئے جو والدین کو کرنا چاہئے اور یہ ضروری ہے پیش کرتا ہوں۔اس میں سب سے اہم بات وفا کا معاملہ ہے جس کے بغیر کوئی قربانی ، قربانی نہیں کہلا سکتی۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے الفاظ میں چند باتیں کہوں گا۔آپ نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ: واقفین بچوں کو وفا سکھائیں۔وقف زندگی کا وفا سے بہت گہرا تعلق ہے۔وہ واقف زندگی جو وفا کے ساتھ آخری سانس تک اپنے وقف کے ساتھ نہیں چمٹتا، وہ الگ ہوتا ہے تو خواہ جماعت اس کو سزا دے یا نہ دے وہ اپنی روح پر غداری کا داغ لگا لیتا ہے اور یہ بہت بڑا داغ ہے۔اس لئے آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اپنے بچوں کو وقف کرنے کا، یہ بہت بڑا فیصلہ ہے۔اس فیصلے کے نتیجہ میں یا تو یہ بچے عظیم اولیاء بنیں گے یا پھر عام حال سے بھی جاتے رہیں گے اور ان کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔جتنی بلندی ہو، اتنی ہی بلندی سے گرنے کا خطرہ بھی بڑھ جایا کرتا ہے۔اس لئے