خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 125

125 $2003 خطبات مسرور کہ اگر وہ مرگیا تو ایک بُرے رنگ میں اس کی موت شماتت اعداء کا موجب ہو گی۔تب میرا دل اس کے لئے سخت در داور بیقراری میں مبتلا ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے اور اگر پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے اذن سے وہ اثر دکھاتی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے مُردہ زندہ ہو جائے۔غرض اس کے لئے اقبال علی اللہ کی حالت میسر آگئی اور جب وہ توجہ انتہا تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلط میرے دل پر کر لیا تب اس بیمار پر جو در حقیقت مردہ تھا اس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور یا یکدفعہ طبیعت نے صحت کی طرف رخ کیا اور اس نے کہا کہ اب مجھے پانی سے ڈر نہیں آتا۔تب اس کو پانی دیا گیا تو اس نے بغیر کسی خوف کے پی لیا بلکہ پانی سے وضو کر کے نماز بھی پڑھ لی۔اور تمام رات سوتا رہا اور خوفناک اور وحشیانہ حالت جاتی رہی۔یہاں تک کہ چند روز تک بکھی صحت یاب ہو گیا۔(حقيقة الوحى - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ٤٨٠،٤٨١) اور یہ واقعہ نہ اس سے پہلے کبھی ہوا نہ بعد میں۔کیونکہ ایک دفعہ جب اثر ہو جائے تو بہر حال ڈاکٹر یہی کہتے ہیں کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکٹی ابن میاں کرم الدین صاحب سکنہ را جیکی ضلع گجرات بیان فرماتے ہیں کہ :- حافظ آباد کے علاقہ میں ایک گاؤں ہے۔وہاں ایک شخص الہی بخش رہا کرتا تھا۔اسے ایک دفعہ بعض احمدیوں نے قادیان لانے کے لئے تیار کیا۔وہ تیار ہو گیا۔بٹالہ اترنے سے پہلے اسے بخار آگیا۔بخار کی حالت میں ہی وہ بٹالہ ٹیشن پر اترا۔آگے مولوی محمد حسین بٹالوی ملا۔اس نے دیکھا کہ شخص بخار کی حالت میں قادیان جا رہا ہے۔اس نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ اگر مرزا صاحب بچے ہوتے تو تجھے رستہ میں ہی بخار نہ ہو جاتا اور کہا کہ وہاں تو دکانداری ہے، وہاں ہرگز مت جانا۔مگر اُس نے کہا ایک دفعہ تو ضرور جاؤں گا۔چنانچہ وہ قادیان آیا۔حضرت اقدس کی مجلس میں بیٹھا ہی تھا کہ حضور نے فرمایا۔ہمارے بعض مخالف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں دکانداری ہے۔بیشک یہ دکان ہے یہاں سے خدا اور اس کے رسول کا سودا ملتا ہے۔یہ بات سن کر اس کی آنکھیں کھل گئیں اور اس کا