خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 124

124 $2003 خطبات مسرور قطعی طور پر حکام ماتحت نے فیصلہ کر دیا تھا۔اس طوفان غم وہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے انہوں نے صرف مجھ سے دعا کی ہی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے۔وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بلا توقف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کریں گے۔چنانچہ بہت سی دعاؤں کے بعد مجھے یہ الہام ہوا کہ اے سیف اپنا رخ اس طرف پھیر لے“۔تب میں نے نواب محمد علی خان صاحب کو اس وحی الہی سے اطلاع دی۔بعد اس کے خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور صاحب بہادر وائسرائے کی عدالت سے ان کے مطلب اور مقصود اور مراد کے موافق حکم نافذ ہو گیا۔تب انہوں نے بلا توقف تین ہزار روپیہ کے نوٹ جونز رمقرر ہو چکی تھی مجھے دے دئے اور یہ ایک بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا“۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۸-۳۳۹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پانچواں نشان جو ان دنوں میں ظاہر ہوا وہ ایک دعا کا قبول ہونا ہے جو درحقیقت احیائے موتی میں داخل ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ عبدالکریم نام ولد عبدالرحمن ساکن حیدر آباد دکن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے، قضاء و قدر سے اس کو سگ دیوانہ کاٹ گیا۔( یعنی ہلکا یا کتا کاٹ گیا)۔ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چند روز تک اس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گزرنے کے بعد اس میں وہ آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا اور خوفناک حالت پیدا ہوگئی۔تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بے قرار ہوا اور دعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مر جائے گا۔ناچار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دی اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اُس کا کوئی علاج بھی ہے۔اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابل رحم تھا اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا