خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 123
123 $2003 خطبات مسرور سے الہام ہوا کہ سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَّبِّ رَحِیم ، یعنی تیری دعا قبول ہوئی اور خدائے رحیم و کریم اس بچے کے متعلق تجھے سلامتی کی بشارت دیتا ہے۔چنانچہ اس کے جلد بعد حضرت میر محمد اسحق صاحب بالکل توقع کے خلاف صحت یاب ہو گئے اور خدا نے اپنے مسیح کے دم سے انہیں شفا عطا فرمائی۔(سیرت طیبه صفحه ٢٦٨،٢٨٧) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اور زبردست نشان قبولیت دعا کا بیان کرتا ہوں۔کپورتھلہ کے بعض غیر احمدی مخالفوں نے کپورتھلہ کی احمد یہ مسجد پر قبضہ کر کے مقامی احمدیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی۔بالآخر یہ مقدمہ عدالت میں پہنچا اور کافی دیر تک چلتا رہا۔کپورتھلہ کے بہت سے دوست فکر مند تھے اور گھبرا گھبرا کر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دوستوں کے فکر اور اخلاص سے متأثر ہو کر ایک دن ان کی درخواست پر غیرت کے ساتھ فرمایا: گھبراؤ نہیں ! اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تمہیں مل کر رہے گی۔مگر عدالت کی نیت خراب تھی اور حج کا رویہ بدستور مخالفانہ رہا۔آخر اس نے عدالت میں برملا کہہ دیا کہ ”تم لوگوں نے نیامذ ہب نکالا ہے۔اب مسجد بھی تمہیں نئی بنانی پڑے گی اور ہم اسی کے مطابق فیصلہ دیں گے۔مگر ابھی اس نے فیصلہ لکھا نہیں تھا اور خیال تھا کہ عدالت میں جا کر لکھوں گا۔اس وقت اس نے اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں بیٹھ کر نوکر سے بوٹ پہنانے کے لئے کہا۔نوکر بوٹ پہنا ہی رہا تھا کہ حج پر اچانک دل کا حملہ ہوا اور وہ چند لمحوں میں ہی اس حملہ میں ختم ہو گیا۔اس کی جگہ جو دوسرا حج آیا تو اس نے مسل دیکھ کر احمد یوں کو حق پر پایا اور مسجد احمدیوں کو دلا دی۔(سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه ١٢٥ - ١٢٦) پھر ایک اور واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمہ معرفت میں بیان فرمایا ہے۔اس جگہ ایک تازہ قبولیت دعا کا نمونہ جو اس سے پہلے کسی کتاب میں نہیں لکھا گیا، ناظرین کے فائدہ کے لئے لکھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے تھے۔منجملہ ان کے یہ کہ وہ ولی عہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دئے گئے تھے۔انہوں نے بہت کچھ کوشش کی مگر ناکام رہے اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقابہ سے اپنی دادرسی چاہیں اور اس میں بھی کچھ امید نہ تھی کیونکہ ان کے برخلاف