خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 122

$2003 122 خطبات مسرور بعض ایسی باتیں کیں جو مجھے ناگوار گزریں تو میں روتا ہوا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں اپنی والدہ کو دعوت اسلام دیا کرتا تھا اور وہ انکار کر دیتی تھیں۔اور آج جب میں نے انہیں یہ دعوت دی تو انہوں نے آپ کے بارہ میں مجھے ایسی باتیں سنائیں جو مجھے نا پسند ہیں۔آپ صلى الله دعا کریں کہ اللہ ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دیدے۔تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : "اللَّهُمَّ اهْدِ امّ أَبِي هُرَيْرَة“ کہ اے اللہ تو ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دیدے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی اس دعا کی وجہ سے خوش خوش گھر کے لئے نکلا اور جب گھر کے دروازہ کے پاس پہنچا تو وہ بند تھا اور میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سن کر کہا کہ اے ابو ہریرہ! وہیں ٹھہرو۔اسی اثناء میں میں نے پانی گرنے کی آواز سنی۔آپ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غسل کیا ، کپڑے بدلے اور دو پٹہ اوڑھ کر دروازہ کھولا اور کہا: اے ابو ہریرہ ! اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں فوراً آنحضرت ﷺ کی خدمت میں خوشی سے روتے ہوئے حاضر ہوا۔اور عرض کی : مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سن لی ہے اور ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دیدی ہے۔اس پر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور فرمایا : اچھا ہوا ہے۔تب میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ سے یہ دعا بھی کریں کہ وہ مجھے اور میری ماں کو مؤمنین کا محبوب بنادے اور وہ ہمیں محبوب ہوں۔تب آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! تو اپنے اس بندہ ابو ہریرہ اور اس کی ماں کو مومنوں کا اور مؤمنین کو ان کا محبوب بنادے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جس مومن نے مجھے دیکھا بھی نہیں، بس میرے بارے میں سنا ہے، وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہے۔مسلم - کتاب فضائل صحابه باب من فضائل ابى هريره۔۔۔۔۔۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبولیت دعا کے واقعات پیش ہیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میر محمد الحق صاحب کے بچپن کا ایک واقعہ ہے۔کہ ایک دفعہ وہ سخت بیمار ہو گئے اور حالت بہت تشویشناک ہوگئی اور ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق دعا کی تو عین دعا کرتے ہوئے خدا کی طرف