خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 121
121 $2003 خطبات مسرور اس وقت آپ اس قدر کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی آپ سجدے میں گر جاتے اور کبھی کھڑے ہو کر خدا کو پکارتے تھے اور آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر پڑتی تھی۔حضرت علی کہتے ہیں کہ مجھے لڑتے لڑتے آنحضرت ﷺ کا خیال آتا اور میں دوڑ کے آپ کے پاس پہنچ جاتا تو دیکھتا کہ آپ مسجدے میں ہیں اور آپ کی زبان پریا حی یا قیوم کے الفاظ جاری ہیں۔حضرت ابوبکر جوش فدائیت میں آپ کی اس حالت کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے اور عرض کرتے : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ گھبرائیں نہیں۔اللہ ضرور اپنے وعدے پورے کرے گا۔مگر اس مقولے کے مطابق کہ ہر کہ عارف تر است ترساں تر ، برابر دعا وگریہ وزاری میں مصروف رہے۔آپ کے دل میں خشیت الہی کا یہ گہرا احساس مضمر تھا کہ کہیں خدا کے وعدوں میں کوئی ایسا پہلو مخفی نہ ہو جس کے عدم علم سے تقدیر بدل جائے۔(سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایمان صفحه ٣٦١ طبع جدید) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں آنحضرت ﷺ ایک خیمہ میں قیام پذیر تھے اور بار بار یہ دعا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ ! میں تجھے تیرے عہد کا واسطہ دیتا ہوں، تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔میرے اللہ ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے تو بے شک ہماری مدد نہ کر۔یعنی اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔حضور اتنی عاجزی اور زاری کے ساتھ بار بار دعا کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکر سے رہا نہ گیا اور گھبرا کر آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! کافی ہے، اتنی آہ وزاری کافی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی دعا ضرور قبول کرے گا۔حضور اس وقت زرع پہنے ہوئے تھے چنانچہ حضور اسی حالت میں خیمہ سے باہر آئے اور مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ دشمن کی جمیعت شکست کھا جائے گی۔ان کے منہ موڑ دئے جائیں گے بلکہ یہ گھڑی ان کے لئے بڑی دہشتناک ، ہلاکت خیز اور تلخ ہوگی۔صلى الله (بخاری کتاب الجهاد باب ما قيل في درع النبي۔۔چنا نچہ اب دیکھیں دشمن کو جنگ بدر میں کس طرح ذلت کی شکست ہوئی۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ مشرکہ تھیں اور میں انہیں دعوت اسلام دیا کرتا تھا۔جب ایک دن میں نے انہیں پیغام حق پہنچایا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں