خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 120
$2003 120 خطبات مسرور ہیں۔آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ بارش کو روک لے۔راوی کہتے ہیں کہ اس پر رسول اللہ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے بلند کئے، پھر کہا: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اے اللہ! ہمارے ارد گرد تو بارش ہومگر ہمارے اوپر بارش نہ ہو۔اے اللہ ! چوٹیوں اور پہاڑوں ،چٹیل میدانوں، وادیوں اور جنگلوں پر بارش برسا۔راوی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا دعا کرنا تھا کہ بارش ختم ہو گئی اور جب نماز جمعہ پڑھ کر نکلے تو دھوپ نکلی ہوئی تھی۔(بخارى كتاب الجمعه، باب الاستسقاء في المسجد الجامع) ایک روایت اسی قسم کی حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے بارہ میں بھی آتی ہے۔مکرم چوہدری غلام محمد صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۹ء کے موسم برسات میں ایک دفعہ لگا تار آٹھ روز بارش ہوتی رہی جس سے قادیان کے بہت سے مکان گر گئے۔آٹھویں یا نویں روز حضرت خلیفہ مسیح اول نے فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں، آپ سب لوگ آمین کہیں۔دعا کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ آج میں نے وہ دعا کی ہے جو حضرت رسول کریم ﷺ نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ کی تھی۔یہ دعا بارش بند ہونے کی دعا تھی۔دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہو رہی تھی اس کے بعد بارش بند ہوگئی اور عصر کی نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔بدر کے دوران جب کہ دشمن کے مقابلے میں آپ ﷺ اپنے جاں نثار بہادروں کو لے کر کھڑے ہوئے تھے۔تائید الہی کے آثار ظاہر تھے۔کفار نے اپنا قدم جمانے کے لئے پختہ زمین پر ڈیرے لگائے تھے اور مسلمانوں کے لئے ریت کی جگہ چھوڑ دی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے بارش بھیج کر کفار کے خیمہ گاہ میں کیچڑ ہی کیچڑ کر دیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہوگئی۔اسی طرح اور بھی تائیدات سماویہ ظاہر ہو رہی تھیں۔لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا خوف ایسا آنحضرت ﷺ پر غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غنا کو دیکھ کر گھبراتے تھے اور بے تاب ہو کر اس کے حضور میں دعا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو فتح ہو۔آپ یہ دعا کر رہے تھے اور اس الحاح کی کیفیت میں آپ کی چادر بار بار کندھوں سے گر جاتی تھی کہ اے میرے خدا! اپنے وعدے کو، اپنی مددکو پورا فرما۔اے میرے اللہ ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج ہلاک ہوگئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔