خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 103

$2003 103 خطبات مسرور انس آپ کا خادم ہے۔آپ ﷺ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تو آپ ﷺ نے اللهُمَّ اكْثِرُ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِي مَا أَعْطَيْتَهُ کی دعا کی یعنی اے اللہ تو اس کے اموال و اولا د کو پھیلا دے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت دے۔(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب دعوة النبي الله لخادمه بطول العمر و بكثرة ماله اس حدیث کی شرح میں ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ صحیح مسلم میں حضرت انس کی اپنی روایت ہے کہ خدا کی قسم ! آج میرے پاس بہت مال و دولت ہے اور میری اولا داور میری اولاد کی اولا دسو کے عدد سے تجاوز کر چکی ہے۔(فتح البارى، كتاب الدعوات باب دعوة النبى له لخادمه بطول العمر وبكثرة ماله پھر حضرت جابر بن عبداللہ کے لئے ایک دعا آنحضرت ﷺ نے کی۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ مقروض ہونے کی حالت میں وفات پاگئے۔اس پر میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور عرض کی کہ میرے والد مقروض تھے اور میرے پاس ان کی کھجوروں کی آمد کے علاوہ (قرض اتارنے کے لئے ) کچھ نہیں اور جو قرض ان پر تھا وہ کئی سال تک میں ادا کرتا رہوں گا۔پس آپ 'میرے ساتھ تشریف لے چلیں تاکہ قرض خواہ مجھ سے بُرا سلوک نہ کریں۔چنانچہ آنحضور نے کھجوروں کے ایک ڈھیر کے گرد دُعا کرتے ہوئے چکر لگایا۔پھر دوسرے ڈھیر کے گرد دعا کرتے ہوئے چکر لگایا اور اس کے بعد اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اسے ماپو۔پھر ان قرض خواہوں کو جو ان کا حصہ تھا پورا ادا کر دیا اور جتنی کھجور میں آپ نے دی تھیں ( آپ کی دعا کی قبولیت کی برکت سے ) اتنی ہی کھجوریں باقی رہ گئیں۔(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام ) ایک اور روایت ہے یہ طائف کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ مجھے عروہ نے بتایا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ میں نے رسول صلى الله اللہ اللہ سے عرض کی کہ کیا آپ پر یوم أحد سے سخت دن بھی آیا ہے؟ اس پر رسول اللہ ہو نے فرمایا: ” مجھے تیری قوم سے بڑی تکالیف پہنچی ہیں۔اور ان تکالیف میں سے شدید ترین عقبہ والے دن پہنچی تھی۔( یعنی طائف کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ) جب میں نے اپنے آپ کو عَبْدِ يَا لِيْل بن د حلال کے سامنے پیش کیا اور اس نے اس بات کا جواب نہ دیا۔جس کا میں نے ارادہ کیا