خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 72
خطبات مسرور 72 $2003 ”اے سننے والو ! تم سب یاد رکھو کہ اگر یہ پیشگوئیاں صرف معمولی طور پر ظہور میں آئیں تو سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔لیکن اگر ان پیشگوئیوں نے اپنے پورے ہونے کے وقت دنیا میں ایک تہلکہ برپا کر دیا اور شدت گھبراہٹ سے دیوانہ سا بنادیا اور اکثر مقامات میں عمارتوں اور جانوں کو نقصان پہنچایا تو تم اس خدا سے ڈرو جس نے میرے لئے یہ سب کچھ کر دکھایا“۔(تجليات الهيه صفحه ٤ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ٣٩٦) آپ کے کچھ الہامات ہیں۔فرمایا: مجھے اللہ جل شانہ نہ یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اور یہ کسی حد تک ہم نے پورا ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور آئندہ بھی دیکھیں گے۔پھر یہ الہام ہے ۱۸۸۳ء کا: پھر بعد اس کے فرمایا "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قَرِيْبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ۔صَدَقَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولاً یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پر از معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورت حقہ اترا ہے۔خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھاوہ ہونا ہی تھا“۔(براهين احمدیه روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۳ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ـ تذکره صفحه ٧٤ـ ٧٥ مطبوعه ١٩٦٩ء) پھر ایک الہام ہے فرمایا: اللہ جل شانہ نے مجھے خبر دی ہے کہ "يُصَلُّوْنَ عَلَيْكَ صُلَحَاءُ الْعَرَبِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ وَتُصَلَّى عَلَيْكَ الْأَرْضُ وَالسَّمَاءُ وَيَحْمَدُكَ اللَّهُ عَنْ عَرْشِهِ“۔از مکتوب حضرت اقدس مورخه اگست ۱۸۸۸ء مندرجه الحكم جلد ۵ نمبر ۳۲ مؤرخه ۳۱ / اگست ۱۹۰۱ء تذکره صفحه ١٦٢ مطبوعه ١٩٦٩) اس کا صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ترجمہ کیا ہے کہ تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے۔زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالی عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔