خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 561
خطبات مسرور 561 $2003 تم جھوٹ سے بچو کیونکہ یہ بھی روحانیت کو تباہ کرنے والا مرض ہے اور پھر شرک اپنی ذات میں سب سے بڑا جھوٹ ہے۔کیونکہ جو طاقتیں خدا تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیں، ان کے متعلق ایک مشرک کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز میں ہیں (وہ بتوں سے مانگتے ہیں جس چیز کا بت بنایا ہوا ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ ان کے دلوں میں ہے کہ وہ طاقت فلاں فلاں بتوں میں ہے ) اور اس طرح جھوٹ کی نجاست پر منہ مارتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کی علامتوں میں سے ایک بڑی بھاری علامت راستبازی ہوتی ہے اور یہ علامت ایسی ہے جو اپنی ذات میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ راستبازی کی قدرو قیمت کو نہیں سمجھتے۔خصوصیت کے ساتھ اس زمانے میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔کیونکہ یہ زمانہ مداہنت اور نفاق کا زمانہ ہے اور تہذیب کے معنے آج کل یہ سمجھے جاتے ہیں کہ بات کرنے والا دوسرے کے خیالات کا اس قدر خیال رکھے کہ اگر اُسے سچائی بھی چھپانی پڑے تو اس سے دریغ نہ کرے۔مگر زمانے کی روکے باوجود ہر شخص کا فرض ہے کہ اس بدی کا پورے زور سے مقابلہ کرے۔اور اسے کچلنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے کیونکہ جھوٹ بولنے والا دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے اور دھو کہ ایک ایسی چیز ہے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔پس جھوٹ بولنے والا صرف اخلاقی مجرم ہی نہیں بلکہ بنی نوع انسان کا دشمن اور انہیں تباہ کرنے والا بھی ہے اور اس عہد کو مٹانا ہر سچے اور مخلص مسلمان کا فرض ہے۔رسول کریم ﷺ نے منافق کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔اور منافق کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے دوزخ کے سخت ترین مقام میں رکھا جائے گا۔گویا خدا تعالیٰ منافقوں کے ساتھ کفار سے بھی سخت معاملہ کرے گا اس لئے کہ کافر کی وجہ سے تو کا فرکو ہی نقصان پہنچتا ہے مگر منافق کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔جو قوم اپنے افراد میں سے جھوٹ نہیں مٹاسکتی اور اس کے باوجود یہ سمجھتی ہے کہ اس کو ترقی اور عزت حاصل ہو جائے گی۔اس کا یہ خیال ایسا ہی خام ہے جیسے ایک بچے کا یہ خیال کہ چاند کے پاس پہنچ جائے گا یا ستاروں کے پاس پہنچ جائے گا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اگر سچائی ایسی چیز ہے جس کے بغیر کسی قوم کا رعب قائم نہیں ہوسکتا۔جولوگ سچائی اور دیانت کا نمونہ دکھاتے ہیں وہ اپنی قوم کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور جو لوگ یہ نمونہ نہیں