خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 498 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 498

خطبات مس $2003 498 تشھد وتعوذ کے بعد درج ذیل آیت قرآنیہ تلاوت فرمائی أمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ۔وَ إِلَةٌ مَّعَ اللَّهِ۔قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴾ (سورة النمل آیت ۶۳) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے نیا (پھر) وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی ( اور ) معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔۔رمضان اپنی بیشمار برکتیں لے کر آیا اور جن کو اس سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھانے کی توفیق ملی یعنی راتوں کو اٹھ کر نوافل ادا کرنے کی، فجر کی نماز کے بعد ا کثر جگہوں پر حدیث کے درس کا انتظام تھا، اس درس کو سننے کی توفیق ملی۔مسجد میں پانچ وقت کوشش کر کے نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے آنے کی توفیق ملی۔درس قرآن کریم اور پھر رات کو تراویح کی نماز ادا کرنے کی توفیق ملی۔اس کے علاوہ خود بھی ایک دو یا تین قرآن کریم کے دور مکمل کرنے کی توفیق ملی اور پھر روزے رکھنے کی بھی اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی۔تو آپ میں ایسے وہ لوگ جنہوں نے یہ سب اہتمام کیا اس رمضان میں، انہوں نے یقینا محسوس کیا ہوگا کہ رمضان آیا اور انتہائی تیزی سے اپنی برکتیں چھوڑتا ہوا چلا گیا۔عبادتوں کے لطف دوبالا ہوئے۔خطوط سے پتہ چلتا ہے، مختلف لوگ خط لکھتے رہتے ہیں کہ بہت سوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کا، اپنی ہستی کا یقین دلایا۔اللہ کرے کہ یہ برکتیں اب ہم سمیٹے رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے ، نہ کہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے اپنی برکتوں سے ہمیں اپنے برتن بھرنے کی توفیق دی ہے اب ہماری کسی لا پرواہی کی وجہ سے، ہماری کسی کمزوری کی